ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 502
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۲ ازالہ اوہام حصہ دوم عا جز کو دی گئی تو ضرور اسی ایک بات پر اُن کا اجماع ہو جاتا لیکن خدائے تعالیٰ نے اس قطعی اور یقینی علم سے اُن کو محروم رکھاتا اپنے ایک بندہ کو کامل طور پر یہ علم دے کر آدم صفی اللہ کی طرح اس کی علمی فضیلت کا ایک نشان ظاہر کرے۔ (۲۶) اگر یہ کہا جائے کہ اکثر مفسرین مسیح ابن مریم کی موت کے تو قائل ہیں لیکن یہ بھی تو کہتے ہیں کہ بعد اس کے زندہ ہو گئے۔ اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ جن بزرگوں کو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے کے بعد اُس کے زندہ ہو جانے کا اعتقاد ہے وہ ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ مسیح کو مرنے کے بعد دنیوی زندگی ملی تھی بلکہ وہ خود مانتے ہیں کہ مسیح کو مرنے کے بعد ایسی زندگی ملی تھی جو دنیوی زندگی سے بالکل مبائن اور مغائر اور عالم ثانی کی زندگی کے قسم میں سے تھی اور اس زندگی کے قسم میں سے تھی جو فوت کے بعد حضرت یحیی کو ملی، حضرت ادریس کو ملی ، حضرت یوسف کو ملی، حضرت ابراہیم کو ملی ، حضرت موسیٰ کو ملی، حضرت آدم کو ملی ، اور جو سب سے زیادہ تر ہمارے سید و مولی نبی عربی ہاشمی امی کو ملی صلى الله عليه وعلى اله و اخوانه اجمعين۔ اور اگر کوئی کہے کہ نہیں صاحب وہ زندگی جو مسیح کو مرنے کے بعد ملی وہ حقیقت میں دنیوی زندگی تھی تو ایسے قائل کو اس بات کا مان لینا لا زم ہوگا کہ مسیح میں دنیوی زندگی کے لوازم موجود ہیں اور وہ اس عالم کے زندوں کی طرح ہوا کے ذریعہ سے دم لیتا ہے اور ہوا کے ذریعہ سے سونگھتا اور ہوا کے ذریعہ سے آواز میں سنتا اور کھاتا پیتا اور تمام (۷۲۷) مکروہات ، پیشاب اور پاخانہ وغیرہ کے اس کو لگے ہوئے ہیں لیکن قرآن شریف تو ان سب کی اُس کی ذات سے نفی کرتا ہے اور حدیثیں صاف اور بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ مسیح کی زندگی تمام گذشتہ اور فوت شدہ نبیوں کی زندگی سے بالکل ہم رنگ ہے۔ چنانچہ معراج کی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے اور عیسائی لوگ بھی باوجود اس کے