ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 501
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۱ ازالہ اوہام حصہ دوم لیکن یہ بات صحیح بخاری سے بھی معلوم ہو چکی ہے کہ مسیح ابن مریم فوت شدہ جماعت میں ۷۴۴) داخل ہے اور یحیی بن زکریا کے ساتھ دوسرے آسمان میں موجود ہے۔ اور خدائے تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ کوئی شخص میری طرف بغیر مر نے کے آ نہیں سکتا لیکن کچھ شک نہیں کہ مسیح اس کی طرف اٹھایا گیا سو وہ ضرور مر گیا۔ خدائے تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس کو إلى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى سے پکارا ہے ۔ سولفظ متوفی جن عام معنوں سے تمام قرآن اور حدیثوں میں مستعمل ہے وہ یہی ہے کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو معطل چھوڑ دینا یہ بڑے تعصب کی بات ہے کہ تمام جہان کے لئے تو توفی کے یہی معنے روح قبض کرنے کے ہوں لیکن مسیح ابن مریم کے لئے جسم قبض کرنے کے معنے لئے جاویں۔ کیا ہم خاص عیسی کے لئے کوئی نئی لغت بنا سکتے ہیں جو کبھی اللہ اور رسول کے کلام میں مستعمل نہیں ہوئی اور نہ عرب کے شعراء اور زبان دان کبھی اس کو استعمال میں لائے ۔ پھر جس حالت میں توفی کے یہی شائع متعارفہ معنے ہیں کہ روح قبض کی جائے خواہ بطور ناقص یا بطور تام تو پھر رفع سے رفع جسد کیوں مراد لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس چیز پر قبضہ کیا جائے گا رفع بھی اُسی کا ہوگا۔ نہ یہ کہ قبض تو روح کا ہو اور جسم کا رفع کیا جائے ۔ غرض برخلاف اس متبادر اور ۷۴۵ مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف سے توفی کے لفظ کی نسبت اوّل سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں ایک نئے معنے اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدائے تعالی مسلمانوں کو اس سے بچاوے اگر یہ کہا جاوے کہ توفی کے معنے تفسیروں میں کئی طور سے کئے گئے ۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ مختلف اور متضاد اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے نہیں لئے گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ بیان جو چشمہ وحی سے نکلا ہے اس میں اختلاف اور تناقض راه پاسکتا بلکہ وہ مفسرین کے صرف اپنے اپنے بیانات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی اُن کا کسی خاص معنے پر اجماع نہیں ہوا ۔ اگر ان میں سے کسی کو وہ بصیرت دی جاتی جو اس ال عمران : ۵۶