ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 500

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۰ ازالہ اوہام حصہ دوم اور ہوا کے ذریعہ سے سونگھتے اور ہوا ہی کے ذریعہ سے سنتے اور روشنی کے ذریعہ سے دیکھتے ہیں ۔ اور کیا وہ زمانہ کے اثر سے اب بڑھے ہو گئے ہیں؟ تو بلا شبہ اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ دنیوی ہستی کے لوازم اور خواص اُن میں باقی نہیں رہے بلکہ وہ ہر یک حالت میں اُن لوگوں کے ہمرنگ ہیں جو اس دنیا کو فوت ہونے کی وجہ سے چھوڑ گئے ہیں اور نہ صرف ہمرنگ بلکہ اس فوت شدہ جماعت میں داخل ہیں ۔ سو اس جواب سے تو اُن کی موت ہی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جبکہ انہوں نے فوت شدہ لوگوں کی طرح عالم ثانی کی زندگی کے تمام لوازم اختیار کر لئے جو فوت شدہ لوگوں کی علامات میں سے ہیں اور نہ صرف اختیار ہی کئے بلکہ اس جماعت میں جاملے اور فرمان ارْجِعِي إِلى رَبِّتِ کا قبول کر کے فَادْخُلِي فِي عِبدِی کا مصداق ہو گئے ۔ تو اب بھی اگر اُن کو فوت (۷۲۳ شدہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جاوے۔ ظاہر ہے کہ عالم دو ہی ہیں ۔ ایک یہ دنیا کا عالم ۔ جب تک انسان اس عالم میں ہوتا ہے اور اس عالم کے لوازم جیسے کھانا پینا پہننا دم لینا جاگنا سونا اور بدنی نشو ونما یا تحلیل کی وجہ سے معرض تغیر میں ہونا اس کے شامل حال ہوتے ہیں اُس وقت تک اُس کو زندہ کہا جاتا ہے اور جب یہ لوازم بکلی اس سے دور ہو جاتے ہیں تب سب بول اُٹھتے ہیں کہ مر گیا اور پھر مجرد موت کے عالم ثانی کے لوازم اُس میں پیدا ہو جاتے ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ جس جماعت میں انسان داخل ہوتا ہے اسی جماعت کے حالات پر اس کے حالات کا قیاس کیا جاتا ہے جو شخص اس دنیا کے لوگوں میں داخل ہے وہ اسی دنیا میں سے سمجھا جائے گا اور جو شخص اس دنیا کو چھوڑ گیا اور عالم ثانی کی جماعت میں جاملا وہ اسی جماعت میں سے خیال کیا جائے گا۔ اب دیکھ لینا چاہیے کہ مسیح کس جماعت میں داخل ہے جس جماعت میں داخل ہو گا اسی جماعت کے احکام اس پر وارد ہوں گے ۔ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی شخص فوت شدہ جماعت میں بغیر فوت ہونے کے داخل نہیں ہوسکتا الفجر : ٢٩ الفجر : ٣٠