ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 499

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۹ ازالہ اوہام حصہ دوم وہی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں کہ مر گیا۔ اور اس بات میں کچھ بھی شبہ نہیں کہ یہ تبدیلی جو بہ تغیر الفاظ موت کے نام سے موسوم ہے۔ حضرت مسیح کی دنیوی زندگی پر وارد ہو چکی ہے اور اس تبدیلی کے ضروری لوازم میں وہ اپنے اُن دوسرے بھائیوں سے کسی بات میں کم نہیں ہیں جو دنیا و مافیہا کو چھوڑ گئے ۔ اس عالم کے لوگ جو مرنے کے بعد اُس جگہ پہنچتے ہیں اُن کی یہ علامات خاصہ ہیں کہ وہ نہ سوتے ہیں اور نہ اس عالم کی روٹی کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں اور نہ وہ بیمار ہوتے ہیں نہ انہیں پاخانہ اور پیشاب کی ضرورت ہوتی ہے نہ بالوں اور ناخنوں کے کٹانے کی انہیں حاجت پڑتی ہے اور نہ روشنی کے لئے وہ سورج اور ۷۴۱ چاند کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ اُن پر زمانہ اثر کرتا ہے اور نہ ہوا کے ذریعہ سے وہ دم لیتے ہیں اور نہ کسی روشنی کے ذریعہ سے وہ دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی وہ ہوا کے ذریعہ سے سنتے بھی نہیں اور نہ سونگھتے ہیں اور نہ توالد تناسل پر قادر ہوتے ہیں۔ غرض ایک پورا انقلاب اُن کی ہستی پر وارد ہو جاتا ہے جس کا نام موت رکھا گیا ہے۔ اُن کو جسم تو دیا جاتا ہے مگر وہ جسم اس عالم کے خواص اور لوازم نہیں رکھتا۔ ہاں وہ بہشت میں کھاتے پیتے بھی ہیں مگر وہ اس عالم کا طعام اور شراب نہیں جس کا جسم عصری محتاج ہے بلکہ وہ ایسی نعمتیں ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں اور نہ دلوں میں کبھی گزریں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح مرے نہیں اور اسی دنیوی زندگی کے ساتھ کسی آسمان پر بیٹھے ہیں تو کیا تمام لوازم جسم خاکی کے اُن میں خصوصیت کے ساتھ موجود ہیں جو دوسروں میں نہیں پائے جاتے ۔ کیا وہ کبھی سوتے اور کبھی جاگتے ہیں اور کبھی اُٹھتے اور کبھی بیٹھتے ہیں اور کبھی دنیوی شراب اور طعام کو کھاتے پیتے ہیں اور کیا وہ اوقات ضرور یہ میں پاخانہ پھرتے اور پیشاب بھی کرتے ہیں ﴿۷۲۲ اور کیا وہ ضرورتوں کے وقت ناخنوں کو کٹاتے اور بالوں کو منڈواتے یا قصر شعر کراتے ہیں۔ کیا اُن کے لیٹنے کے لئے کوئی چار پائی اور کوئی بستر بھی ہے۔ کیا وہ ہوا کے ساتھ دم لیتے