ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 491
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۱ ازالہ اوہام حصہ دوم (۳) دجال کے ساتھ بعض اسباب تتم اور آسائش جنت کی طرح ہوں گے اور بعض اسباب محنت اور بلا کے آگ یعنی دوزخ کی طرح ہوں گے (بخاری و مسلم ) جس قد ر عیسائی قوم نے تھم کے اسباب نئے سے نئے ایجاد کئے ہیں اور جو دوسری راہوں سے محنت اور بلا اور فقر اور فاقہ بھی اُن کے بعض انتظامات کی وجہ سے دیس کے لوگوں کو پکڑتا جاتا ہے اگر یہ دونوں حالتیں بہشت اور دوزخ کے نمونے نہیں ہیں تو اور کیا ہے۔ (۴) دجال کے بعض دن برس کی طرح ہوں گے اور بعض دن مہینہ کی طرح اور بعض دن ہفتہ کی طرح مگر یہ نہیں کہ دنوں میں فرق ہوگا بلکہ اُس کے دن اپنی مقدار میں ایسے ہی ہوں گے جیسے تمہارے۔ مسلم۔ (۵) دجال کے گدھے کا اس قدر جسم ہو گا کہ اس کے ایک کان سے دوسرے کان تک سنتر بارع کا فاصلہ ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس جسامت کی گدھی خدائے تعالیٰ نے پیدا نہیں کی تا امید کی جائے کہ ان کی اولا د سے یہ گدھا ہوگا۔ } 617 مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ خدائے تعالیٰ پر یہ الزام لگانا کہ ایسے جہاد اور ایسی لڑائیاں اس کے حکم سے کی تھیں یہ دوسرا گناہ ہے۔ کیا خدائے تعالی ہمیں یہی شریعت سکھلاتا ہے کہ ہم نیکی کی (۷۲۵) جگہ بدی کریں۔ اور اپنی محسن گورنمنٹ کے احسانات کا اس کو یہ صلہ دیں کہ اُن کی قوم کے صغرسن بچوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کریں اور ان کی محبوبہ بیویوں کوٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں ۔ بلا شبہ ہم یہ داغ مسلمانوں خاص کر اپنے اکثر مولویوں کی پیشانی سے دھو نہیں سکتے کہ وہ ۵۷ء میں مذہب کے پردہ میں ایسے گناہ عظیم کے مرتکب ہوئے جس کی ہم کسی قوم کی تواریخ میں نظیر نہیں دیکھتے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ انہوں نے اور بھی ایسے بُرے کام کئے جو صرف وحشی حیوانات کی عادات ہیں نہ انسانوں کی خصلتیں۔ انہوں نے نہ سمجھا کہ اگر اُن کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے کہ ایک ممنون منت اُن کا اُن کے بچوں کو مار دے اور ان کی عورتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرے تو اُس وقت اُن کے دل میں کیا کیا خیال پیدا ہوگا۔ باوجود اس کے یہ مولوی (۷۲۶) لوگ اس بات کی شیخی مارتے ہیں کہ ہم بڑے متقی ہیں ۔ میں نہیں جانتا کہ نفاق سے زندگی