ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 492
۴۹۲ ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ (1) دجال جب گدھے پر سوار ہوگا تو گدھا جس جلدی سے چلے گا اس کی یہ مثال ہے کہ جیسے بادل اس حالت میں چلتا ہے جبکہ پیچھے اس کے ہوا ہو۔ یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دجال کا گدھا کوئی جاندار مخلوق نہیں ہوگا بلکہ وہ کسی ہوائی مادہ کے زور سے چلے گا۔ (۷) زمین اور آسمان دونوں دجال کے فرمانبردار ہوں گے یعنی خدائے تعالیٰ اس کی تدبیر کے ساتھ تقدیر موافق کر دے گا اور اس کے ہاتھ پر زمین کو اُس کی مرضی کے موافق آباد کرے گا۔ (۸) دجال مشرق کی طرف سے خروج کرے گا یعنی ملک ہند سے کیونکہ یہ ملک زمین حجاز سے مشرق کی طرف ہے۔ متفق علیہ ۔ (۹) دجال جس ویرانہ پر گزرے گا اُسے کہے گا کہ تو اپنے خزانے باہر نکال ۔ سو وہ تمام خزانے باہر نکل آئیں گے اور دجال کے پیچھے پیچھے جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دجال زمین سے بہت فائدہ اٹھائے گا۔ اور اپنی تدبیروں سے زمین کو آباد ۷۳۰) کرے گا اور ویرانے کو خزانے کر کے دکھائے گا پھر آخر باب لد پر قتل کیا جائے گا۔ لد اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے ۷۲۷ بسر کرنا انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ کتاب الہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے اور ان کے دلی اور دماغی قومی پر بہت بُرا اثر ان سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں بلا شبہ کتاب الہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثر ڈالتی ہیں بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روشی کے مزاحم ہو رہی ہیں۔ کیوں مزاحم ہورہی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اکثر زوائد کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم نہیں ہے قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہو گئے ہیں۔ ہاں یہ بیچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اترتا۔ انہیں معنوں سے