ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 490 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 490

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۰ ازالہ اوہام حصہ دوم ۲۶) جس سے ایسے لوگ مراد ہیں جو کذاب ہوں ۔ چنانچہ قاموس میں یہی معنے لکھتے ہیں کہ دجال اس گروہ کو کہتے ہیں کہ جو باطل کو حق کے ساتھ ملانے والا اور زمین کو نجس کرنے والا ہو۔ اور مشکوۃ کتاب الفتن میں مسلم کی ایک حدیث لکھی ہے جس میں دجال کے ایک گروہ ہونے کی طرف صریح اشارہ کیا گیا ہے۔ ۷۲۷) اب جاننا چاہیے کہ دجال معہود کی بڑی علامتیں حدیثوں میں دیکھی ہیں۔ (1) آدم کی پیدائش سے قیامت کے دن تک کوئی فتنہ دجال کے فتنے سے بڑھ کر نہیں یعنی جس قدر دین اسلام کے تخریب کے لئے فتنہ اندازی اس سے ظہور میں آنے والی ہے اور کسی سے ابتدا دنیا سے قیامت کے وقت تک ظہور میں نہیں آئے گی ۔ صحیح مسلم۔ (۲) دجال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف اور رویا میں دیکھا کہ دہنی آنکھ سے وہ ۷۲۸ کانا ہے اور دوسری آنکھ بھی عیب سے خالی نہیں یعنی دینی بصیرت اُن کو بکلی نہیں دی گئی اور تحصیل دنیا کی وجوہ بھی حلال اور طیب نہیں ۔ بخاری اور مسلم ۔ ۷۲۴ بفيه حاشیه کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کی رعیت اور ان کے زیر سایہ تھے اور رعیت کا اس گورنمنٹ کے مقابل پر سراٹھانا زیر سر اٹھا نا جس کی وہ رعیت ہے اور جس کے زیر سایہ امن اور آزادگی سے زندگی بسر کرتی ہے سخت حرام اور معصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکر وہ بدکاری ہے۔ جب ہم ۱۸۵۷ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتووں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہیے تو ہم بحرندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے اُن کے فتوے تھے جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔ ننھے ننھے بچوں اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا اور نہایت بے رحمی سے انہیں پانی تک نہ دیا۔ کیا یہ حقیقی اسلام تھا یا یہودیوں کی خصلت تھی۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسے جہاد کا کسی جگہ حکم دیا ہے۔ پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ۱۸۵۷ء میں میرا کلام آسمان پر اُٹھایا جائے گا یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ