ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 455

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۵ ازالہ اوہام حصہ دوم کی طرف اشارہ ہے کہ علم اور حکمت کی مانند کوئی مال نہیں۔ یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آکر اس مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے ۔ یہ نہیں کہ مسیح درم و دینار کو جو مصداق آیت إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ﴿٦٥﴾ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر ایک کو مال کثیر دے کرفتنہ میں ڈال دے گا مسیح کی پہلی فطرت کو بھی ایسے مال سے مناسبت نہیں۔ وہ خود انجیل میں بیان کر چکا ہے کہ مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر حقائق و معارف اُس کا مال ہیں۔ یہی مال انبیا ء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اسی کو تقسیم کرتے ہیں۔ اسی مال کی طرف اشارہ ہے کہ انما انا قاسم والله هو المعطى۔ حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اُس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اُٹھ جائے گا اور جہل شیوع پا جائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے لو كان الايمان معلقا عند الثريا لنا له رجل من فارس ۔ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں شروع ہوگا جو آیت وَ اِنَّا عَلَى ذَهَابٍ بِهِ لَقَدِرُونَ ۔ میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی ۱۲۷۴ھ۔ اس مقام کو غور سے دیکھو اور جلدی سے نکل نہ جاؤ ۔ اور خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمہارے ﴿۲۵۸ سینوں کو کھول دے ۔ آپ لوگ تھوڑے سے تامل کے ساتھ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ حدیثوں میں یہ وارد ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن زمین سے اٹھا لیا جائے گا اور علم قرآن مفقود ہو جائے گا اور جہل پھیل جائے گا اور ایمانی ذوق اور حلاوت دلوں سے دور ہو جائے گی ۔ پھر ان حدیثوں میں یہ حدیث بھی ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس جا ٹھہرے گا یعنی زمین پر اس کا نام ونشان نہیں رہے گا تو ایک آدمی فارسیوں میں سے اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور وہیں ثریا کے پاس سے اس کو لے لے گا التغابن : ١٦ المؤمنون : ١٩