ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 456
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۶ ازالہ اوہام حصہ دوم اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب جہل اور بے ایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دُخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائے گی اور زمین میں حقیقی ایمانداری ایسی کم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اُٹھ گئی ہو گی اور قرآن کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ہو گا۔ تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہو اور ایمان کو ثریا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو۔ سو یقیناً ۲۵۹) سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسی بن مریم کی طرح اپنے زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کونہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خدائے تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندے کا نام ابن مریم رکھا کیونکہ اس نے مخلوق میں سے اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اُس نے قالب اسلام کا پایا لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی۔ تب وہ وجود روحانی پا کر خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اُٹھا لیا اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تحفہ لایا اور زمین جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی اس کے روشن اور آباد کرنے کے فکر میں لگ گیا ۔ پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسی بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ (۲۲۰) داخل ہے۔ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟ اور اگر اب بھی تمہیں شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی اختلافات کی وجہ سے لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں ۔ مومن لغان نہیں ہوتا لیکن ایک طریق بہت آسان ہے اور وہ در حقیقت قائم مقام مباہلہ ہی ہے جس سے کا ذب اور صادق اور مقبول اور مردود کی تفریق ہوسکتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے جو ذیل میں موٹی قلم سے لکھتا ہوں ۔