ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 454

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۴ ازالہ اوہام حصہ دوم لے (۲۵۵) فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ ۔۔۔ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۔۔ هذَا بَصَابِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُوْقِنُوْنَ ۔ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَأَيْتِهِ يُؤْمِنُونَ قُل بفضل اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُوْنَ یعنی یہ قرآن اس راہ کی طرف ہدایت کرتا ہے جو نہایت سیدھی ہے اس میں اُن لوگوں کے لئے جو پرستار ہیں حقیقی پرستش کی تعلیم ہے اور یہ اُن کے لئے جو متقی ہیں کمالات تقویٰ کے یاد دلانے والا ہے یہ حکمت ہے جو کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور یہ یقینی سچائی ہے اور اس میں ہر یک چیز کا بیان ہے یہ نور علی نور اور سینوں کو شفا بخشنے والا ہے۔ رحمن نے قرآن کو سکھلایا۔ ایسی کتاب نازل کی جو اپنی ذات میں حق ہے اور حق کے وزن کرنے کے لئے ایک ترازو ہے وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اجمالی ہدایتوں کی اس میں تشریح ہے اور وہ اپنے دلائل کے ساتھ حق اور باطل میں فرق کرتا ہے اور وہ قول فصل ہے اور شک اور شبہ سے خالی ہے ہم نے اس کو اس لئے (۱۵۶) تجھ پر اتارا ہے کہ تا امور متنازعہ فیہ کا اس سے فیصلہ کر دیں اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا سامان طیار کر دیں۔ اس میں وہ تمام صداقتیں موجود ہیں جو پہلی کتابوں میں متفرق اور پراگندہ طور پر موجود تھیں ایک ذرہ باطل کا اس میں دخل نہیں نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ یہ لوگوں کے لئے روشن دلیلیں ہیں اور جو یقین لانے والے ہوں اُن کے لئے ہدایت و رحمت ہے سو ایسی کونسی حدیث ہے جس پر تم اللہ اور اُس کی آیات کو چھوڑ کر ایمان لاؤ گے یعنی اگر کوئی حدیث قرآن کریم سے مخالف ہو تو ہر گز نہیں ماننی چاہیے بلکہ رد کر دینی چاہیے۔ ہاں اگر کوئی حدیث بذریعہ تاویل قرآن کریم کے بیان سے مطابق آسکے مان لینا چاہیے۔ پھر بعد اس کے ترجمہ بقیہ آیات کا یہ ہے کہ اُن کو کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل و رحمت سے یہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو ۔ یہ اُن مالوں سے اچھا ہے جو تم جمع کرتے ہو ۔ یہ اس بات البينة : ٤ ٢ حم السجدة : ۴۳ الجاثية : ٢١ الجاثية : ۵ یونس : ۵۹