ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 453
۶۵۴ ۴۵۳ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ بوجہ نہ ثابت ہونے بالائی رہنمائی کے اور بباعث نہ معلوم ہونے تحریکات طاقت بالا کے خود اس صانع کی ذات کے بارہ میں طرح طرح کے وساوس دلوں میں پیدا ہو جائیں گے سوالیسا خیال کہ خالق حقیقی کے تمام دقیق در دقیق بھیدوں کے سمجھنے کے لئے صرف عقل ہی کافی ہے کس قد رخام اور نا سعادتی پر دلالت کر رہا ہے۔ اور ان لوگوں کے مقابل پر دوسرا گروہ یہ ہے کہ جس نے عقل کو بکلی معطل کی طرح چھوڑ دیا ہے۔ اور ایسا ہی قرآن شریف کو بھی چھوڑ کر جو سر چشمہ تمام علوم الہیہ ہے صرف روایات و اقوال بے سروپا کو مضبوط پکڑ لیا ہے۔ سو ہم ان دونوں گروہ کو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کی عظمت و نورانیت کا قدر کریں اور اس کے نور کی رہنمائی سے عقل کو بھی دخل دیں اور کسی غیر کا قول تو کیا چیز ہے اگر کوئی حدیث بھی قرآن کریم کے مخالف پاویں تو فی الفور اس کو چھوڑ دیں جیسا کہ اللہ جل شانۂ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ یعنی قرآن کریم کے بعد کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ اور ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس وہ نص جو اول درجہ پر قطعی اور یقینی ہے قرآن کریم ہی ہے۔ اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں وَالظَّنَّ لا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيئاً مندرجہ ذیل صفات قرآن کریم کی غور سے پڑھو اور پھر انصافا خود ہی کہو کہ کیا مناسب ہے کہ اس کلام کو چھوڑ کر کوئی اور ہادی یا حکم مقرر کیا جائے ۔ اور وہ آیات یہ ہیں۔ اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ اِنَّ فِي هُذَا لَبَلَعًا لِّقَوْمٍ عُبِدِينَ وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةً لِلْمُتَّقِينَ وَإِنَّهُ لَحَقِّ الْيَقِينِ ٥ حِكْمَةٌ بَالِخَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْ ۔ نور على نور ^ شِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ الرَّحْمَنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ انْزَلَ الكتب بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ " هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَةٍ مِنَ الْهُدَى | وَالْفُرْقَانِ " إِنَّهُ لَقَوْلُ فَصْلَ " لَا رَيْبَ فِيْهِ " وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ الاعراف : ١٨٦ بنی اسرائیل : ۱۰ القمر : ٦: ك النحل : ٩٠ الشورى : ۱۸ ٢ البقرة: ١٨٦ الانبياء : ۱۰۷ الحاقة : ٤٩ ه الحاقة : ۵۲ النور : ٣٦ و یونس : ۵۸ الرحمن :٣٢ الطارق ۱۴ ١٢ البقرة : ٣ ها النحل : ۶۵ ۱۵