ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 431
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۱ ازالہ اوہام حصہ دوم (19) انیسویں آیت یہ ہے وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ لا الجز و نمبر ۱۸ سورۃ الفرقان یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ تمام نبی نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ بازاروں میں پھرتے ہیں اور پہلے ہم بہ نص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم (۶۱۳ میں سے طعام کا کھانا ہے سو چونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔ (۲۰) بیسویں آیت یہ ہے وَالَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء - وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ " سورة النحل الجز ونمبر ۱۴ | یعنی جولوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں۔ مرچکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اُٹھائے جائیں گے۔ دیکھو یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور اُن سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاری اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے اور اُن سے دعائیں مانگتے تھے۔ اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن کریم (۶۱۴ کے ماننے میں کلام ہے۔ قرآن کریم کی آیتیں سن کر پھر وہیں ٹھہر نہ جانا کیا ایمانداروں کا کام ہے۔ (۲۱) اکیسویں آیت یہ ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيَّنَ سے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا ۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں آ نہیں سکتا کیونکہ الفرقان : ۲۱ النحل :٢٢٢١ الاحزاب :۴۱