ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 430

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۰ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ کوئی انسان اس قانون قدرت سے باہر نہیں اور ہر ایک مخلوق اس محیط قانون میں داخل ہے کہ زمانہ اُس کی عمر پر اثر کر رہا ہے یہاں تک کہ تاثیر زمانہ کی سے وہ پیر فرتوت ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ (۱۶) سولہویں آیت یہ ہے۔ اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا كَمَا أَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ الخ یعنی اس زندگی دنیا کی مثال یہ ہے کہ جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جاتی ہے پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے اور آخر کائی جاتی ہے یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے اول کمال کی طرف رخ کرتا ہے پھر اس کا زوال ہوتا جاتا ہے کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھا گیا ہے۔ (۱۷) سترھویں آیت ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ سے الجزو نمبر ١٨ سورة المومنون یعنی اول رفتہ رفتہ خدائے تعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو یہاں تک کہ مر جاتے ہو یعنی تمہارے لئے خدائے تعالی کی طرف سے ۶۲) یہی قانون قدرت ہے کوئی بشر اس سے باہر نہیں ۔ اے خداوند قد میرا اپنے اس قانون قدرت کے سمجھنے کے لئے ان لوگوں کو بھی آنکھ بخش جو مسیح ابن مریم کو اس سے باہر سمجھتے ہیں۔ (۱۸) اٹھارھویں آیت اَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَا بِيْعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَريهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ سے الجز و نمبر ۲۳ سورة الزمران آیات میں بھی مثال کے طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مرجاتا ہے۔ ا یونس : ۲۵ المومنون : ١٦ الزمر :٢٢