ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 432
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۲ ازالہ اوہام حصہ دوم صحیح ابن مریم رسول ہے اور رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔ اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔ اس سے ضروری طور پر یہ مانا پڑتا ہے کہ مسیح ابن مریم ہر گز نہیں آئے گا اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مر گیا۔ اور یہ خیال کہ پھر وہ موت کے بعد زندہ ہو گیا مخالف کو کچھ فائدہ نہیں (۲۵) پہنچا سکتا کیونکہ اگر وہ زندہ بھی ہو گیا تا ہم اس کی رسالت جو اس کے لئے لازم غیر منفک ہے اس کے دنیا میں آنے سے روکتی ہے۔ ماسوا اس کے ہم بیان کر آئے ہیں کہ مسیح کا مرنے کے بعد زندہ ہونا اس قسم کا نہیں جیسا کہ خیال کیا گیا ہے بلکہ شہداء کی زندگی کے موافق ہے جس میں مراتب قرب و کمال حاصل ہوتے ہیں۔ اس قسم کی حیات کا قرآن کریم میں جابجا بیان ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے یہ آیت قرآن شریف میں درج ہے۔ وَالَّذِی يُمِيتُنى ثُمَّ يُحْيِينِ لا یعنی وہ خدا جو مجھے مارتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے۔ اس موت اور حیات سے مراد صرف جسمانی موت اور حیات نہیں بلکہ اس موت اور حیات کی طرف اشارہ ہے جو سالک کو اپنے مقامات و منازل سلوک میں پیش آتی ہے ۔ چنانچہ وہ خلق کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور خالق حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے اور پھر اپنے رفقاء کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور رفیق اعلیٰ کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا (۲۱۲) ہے۔ اور پھر اپنے نفس کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور محبوب حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کئی موتیں اس پر وارد ہوتی رہتی ہیں اور کئی حیا تھیں۔ یہاں تک کہ کامل حیات کے مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے سو وہ کامل حیات جو اس سفلی دنیا کے چھوڑنے کے بعد ملتی ہے وہ جسم خاکی کی حیات نہیں بلکہ اور رنگ اور شان کی حیات ہے۔ قال الله تعالى وَ إِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الجزء نبر ۲۲۱ الشعراء :۸۲ العنكبوت : ۶۵