ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 429

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۹ ازالہ اوہام حصہ دوم بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں ۔ (۲۰۹) یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف رد کئے جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہو جاتے ہیں۔ یہ آیت بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پاوے تو دن بدن ارذل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ (۱۳) تیرھویں یہ آیت ہے وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينٍ یعنی تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے کیونکہ لَكُمُ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر جا نہیں سکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔ (۱۴) چودھویں یہ آیت ہے وَمَنْ تُعَمِّرُهُ تُنَكِّسْهُ فِي الْخَلق ہے ۔ یعنی جس کو (۲۰) ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اُس کی پیدائش کو اُلٹا دیتے ہیں ۔ یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہو جاتی ہیں۔ حواس میں اس کے فرق آجاتا ہے۔ عقل اس کی زائل ہو جاتی ہے۔ اب اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک مدت دراز سے اُن کی انسانیت کے قومی میں بکلی فرق آ گیا ہوگا اور یہ حالت خود موت کو چاہتی ہے اور یقینی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مدت سے وہ مر گئے ہوں گے ۔ (۱۵) پندرھویں آیت یہ ہے اللهُ الَّذِی خَلَقَكُمْ مِنْ ضُعْفِ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعَفَا وَ شَيْبَةٌ ۔ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا پھر ضعف کے بعد قوت دے دی ۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور پیرانہ سالی دی۔ یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے ل البقرة : ٣٧ ٢ يس : ۶۹ ۳ الروم : ۵۵