ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 420

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۰ ازالہ اوہام حصہ دوم قدم پر قدم رکھ کر یہودی بن جاؤ گے اور یہ بلائیں آخری زمانہ میں سب سے زیادہ مشرقی ملکوں میں پھیلیں گی یعنی ہندوستان و خراسان وغیرہ میں۔ تب اس یہودیت کی بیخ کنی کے لئے مسیح ابن مریم نازل ہو گا یعنی مامور ہو کر آئے گا ۔ اور فرمایا کہ جیسا کہ یہ امت یہودی بن جائے گی ۵۹۳ ایسا ہی ابن مریم بھی اپنی صورت مثالی میں اسی اُمت میں سے پیدا ہوگا نہ یہ کہ یہودی تو یہ امت بنی اور ابن مریم بنی اسرائیل میں سے آوے۔ ایسا خیال کرنے میں سراسر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے اور نیز آیت ثلةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ کے برخلاف ۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ متصوفین کے مذاق کے موافق صعود اور نزول کے ایک خاص معنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب انسان خلق اللہ سے بکلی انقطاع کر کے خدائے تعالی کی طرف جاتا ہے تو اس حالت کا نام متصوفین کے نزدیک صعود ہے اور جب مامور ہو کر نیچے کو اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے تو اس حالت کا نام نزول ہے۔ اسی اصطلاحی معنے کے لحاظ سے نزول کا لفظ اختیار کیا گیا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اس آیت میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ نے ابن مریم سے مراد وہ ابن مریم ہرگز نہیں لیا جو رسول اللہ تھے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ اول استعارہ کے طور پر آخری زمانہ کے لوگوں کو یہودی قرار دے کر اور اُن یہودیوں کا ہر یک باب میں مثیل ٹھہرا کر جو حضرت (۵۹۴) مسیح ابن مریم کے وقت میں تھے پھر پہلے استعارہ کے مناسب حال ایک دوسری پیشگوئی بطور استعارہ کے فرمادی کہ جب تم ایسے یہودی بن جاؤ گے تو تمہارے حال کے مناسب حال ایسا ہی ایک مسیح تم میں سے ہی تمہیں دیا جائے گا اور وہ تم میں حکم ہوگا اور تمہارے کینہ اور بغض کو دور کر دے گا۔ شیر اور بکری کو ایک جگہ بٹھا دے گا اور سانپوں کی زہر نکال دے گا اور بچے تمہارے سانپوں اور بچھوؤں سے کھیلیں گے اور اُن کی زہر سے ضرر نہیں اُٹھاویں گے۔ یہ تمام اشارات اسی بات کی طرف ہیں کہ جب مذہبی اختلافات الواقعة : ۴۰، ۴۱ ے بنی اسرائیل : ١٠٦