ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 421
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۱ ازالہ اوہام حصہ دوم دور ہو جاویں گے تو یکدفعہ فطرتی محبت کا چشمہ جوش مارے گا اور تباغض اور تحاسد دور ہو جائے گا اور تعصب کی زہریں نکل جائیں گی اور ایک بھائی دوسرے بھائی پر نیک ظن پیدا کرے گا۔ تب اسلام کے دن پھر سعادت اور اقبال کی طرف پھریں گے اور سب مل کر اس کوشش میں لگیں گے کہ اسلام کو بڑھایا جائے اور مسلمانوں کی کثرت ہو جیسا کہ آج کل یہ کوشش ہو رہی ہے کہ مسلمانوں کو جہاں تک ممکن ہے کم کر دیا جائے اور بدسرشت مولویوں کے حکم و فتوے سے دین اسلام سے خارج کر دئے جائیں اور اگر ہزار وجہ اسلام کی پائی جائے تو اس سے چشم پوشی (۵۹۵ کر کے ایک بیہودہ اور بے اصل وجہ کفر کی نکال کر اُن کو ایسا کافر ٹھہرا دیا جائے کہ گویا وہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے بدتر ہیں اور نہ صرف شرع کی بد استعمالی سے یہ جد و جہد شروع ہے بلکہ ایسے مادہ کے لوگوں کو الہام بھی ہورہے ہیں کہ فلاں مسلم کا فر ہے اور فلاں مسلم جہنمی ہے اور فلاں ایسا کفر میں غرق ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔ اور درندگی کے جوشوں کی وجہ سے لعنتوں پر بڑا زور دیا جاتا ہے اور لعنت بازی کے لئے با ہم مسلمانوں کے مباہلہ کے فتوے دئے جاتے ہیں۔ اور یہ سب ملا یا یوں کہو کہ ایک دوسرے کو کھانے والے کیڑے اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے کہ مسلمانوں کے تمام مذاہب میں عام طور پر اختلافات جزئیہ جاری وساری ہیں اور کسی بات میں کوئی خطا پر ہے اور کسی بات میں کوئی ۔ اب کیا یہ انسانیت ہے یا ہمدردی اور ترحم میں داخل ہے کہ طریق تصفیہ یہ ٹھہرایا جائے کہ تمام مسلمانوں کیا ائمہ اربعہ کے پیرو اور کیا محدثین کے پیرو اور کیا متصوفین۔ ان ادنی ادنی اختلافات کی وجہ سے مباہلہ کے میدان میں آکر ایک دوسرے پر لعنت کرنا شروع کر دیں ۔ اب عظمند سوچ سکتا (۵۹۶) ہے کہ اگر مباہلہ اور ملاعنہ کے بعد صاعقہ قہر الہی فرقہ مخطیه پر ضروری الوقوع ہے تو کیا اس کا بجز اس کے کوئی اور نتیجہ ہو گا کہ ایک دفعہ خدائے تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہلاک کر دے گا اور اپنے اپنے اجتہادی خطا کی وجہ سے سب ہلاک کئے جائیں گے۔ یہ نادان کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے جو مباہلہ کی درخواست کی تھی اس سے نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا باہم مباہلہ