ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 402

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۲ ازالہ اوہام حصہ دوم اے خدا اے میرے قادر خدا مدد کر کہ لوگوں نے افراط اور تفریط کی راہیں لے لی ہیں۔ بعض نے تیرے کلام کے بینات تیرے کلام کے اشارات تیرے کلام کے دلالات تیرے کلام کی فجوا کو بکنی چھوڑ کر بے بنیا دلکیر کو اس کی جگہ پسند کر لیا اور بعض نے تیرے کلام کو بھی چھوڑا اور لکیر کو بھی چھوڑا اور صرف اپنی ناقص عقل کو اپنا رہبر بنا لیا اور امام الرسل کو چھوڑ کر یورپ کے تاریک خیال مجوب فلاسفروں کو اپنا امام بنالیا۔ اے میرے دوستو ! اب میری ایک آخری وصیت کو سنو اور ایک راز کی بات کہتا ہوں اس کو خوب یا درکھو کہ تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تمہیں پیش آتے ہیں پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر دو کہ در حقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکا ہے۔ یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف لپیٹ دو گے۔ تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقات عزیز کو (۵۶) ضائع کرو۔ صرف مسیح ابن مریم کی وفات پر زور دو اور پر زور دلائل سے عیسائیوں کو لا جواب اور ساکت کر دو۔ جب تم مسیح کا مردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اُس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔ یقینا سمجھو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو ان کا مذہب بھی فوت نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری تمام بحثیں اُن کے ساتھ عبث ہیں۔ اُن کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ اس ستون کو پاش پاش کرو پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے ۔ چونکہ خدائے تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کرے اور یوروپ اور ایشیا میں توحید کی ہوا چلا دے۔ اِس لئے اُس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ ۵۶۲ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے وکان وعد الله مفعولا انت معى وانت على الحق المبين انت مصيب ومعين للحق۔