ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 403
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۳ ازالہ اوہام حصہ دوم میں نے اس کتاب میں نہایت زبر دست ثبوتوں سے مسیح کا فوت ہو جانا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کر دیا ہے اور میں نے بداہت کی حد تک اس بات کو پہنچا دیا ہے کہ مسیح زندہ ہو کر جسم عصری کے ساتھ ہر گز آسمان کی طرف اُٹھا یا نہیں گیا بلکہ اور نبیوں کی موت کی طرح اُس پر بھی موت آئی اور دائمی طور پر وہ اس جہان سے رخصت ہوا ۔ اگر کوئی مسیح کا ہی پرستار ہے تو سمجھ لے کہ وہ مر گیا اور مرنے والوں کی جماعت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو گیا ۔ سو تم تائید حق کے لئے اس کتاب سے فائدہ اٹھاؤ اور سرگرمی کے ساتھ پادریوں کے مقابل پر کھڑے ہو جاؤ ۔ چاہیے کہ یہی ایک مسئلہ ہمیشہ تمہارے زیر توجہ اور پورا بھروسہ کرنے کے لائق ہو جو در حقیقت مسیح ابن مریم فوت شدہ گروہ میں داخل ہے ۔ میں نے اس بحث کو اس کتاب میں بڑی دلچسپی کے ساتھ کامل اور قومی دلائل سے انجام تک پہنچایا ہے اور خدائے تعالیٰ نے اس تالیف (۵۶۳) میں میری وہ مدد کی ہے جو میں بیان نہیں کر سکتا اور میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں بیچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں ۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے ۔ جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مُشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے ۔ ہر یک وہ شخص جس پر تو بہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں ۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ۔ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ۔