ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 401

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۱ ازالہ اوہام حصہ دوم اس کے علاوہ اور آلات اور محک بھی تو ہیں جن کے ذریعہ سے اعلیٰ درجہ کی صداقتیں آزمائی جاتی ہیں بلکہ اگر سچ پوچھو تو قانون قدرت مصطلحہ حکماء کے ذریعہ سے جو جو صداقتیں معلوم ہوتی ہیں وہ ایک ادنیٰ درجہ کی صداقتیں ہیں لیکن اس فلسفی قانون قدرت سے ذرہ اوپر چڑھ کر ایک اور قانون قدرت بھی ہے جو نہایت دقیق اور غامض اور بباعث دقت و غموض موٹی نظروں سے چھپا ہوا ہے جو عارفوں پر ہی کھلتا ہے اور فانیوں پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس دنیا کی عقل اور اس دنیا کے قوانین شناس اس کو شناخت نہیں کر سکتے اور اس سے منکر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو امور اس کے ذریعہ سے ثابت ہو چکے ہیں اور جو سچائیاں اس کی طفیل سے پایہ ثبوت پہنچ چکی ہیں وہ ان سفلی فلاسفروں کی نظر میں اباطیل میں داخل ہیں۔ ملائک کو یہ لوگ صرف قومی خیال کرتے ہیں اور وحی کو یہ لوگ صرف فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ سمجھتے ہیں یا ہر ایک بات جو دل میں پڑتی ہے اس کا نام وحی رکھ لیتے ہیں اور قرآن (۵۵۹ کریم اور دوسری الہی کتابوں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا نبیوں نے آپ بنالی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذات قومی اور قیوم جو اس عالم کے ظاہر و باطن کی مدبر ہے اس کی عظمت اُن کے دل میں نہیں اور اس کو ایک مردہ یا سویا ہوایا نا تواں اور غافل خیال کیا گیا ہے اور اس کی تمام قدرتی عمارت کے مسمار کرنے کی فکر میں ہیں۔ معجزات سے بکلی منکر اور فرقانی پیشگوئیوں سے انکاری ہیں اور اپنی نابینائی کی وجہ سے فرقان کریم کو ایک ادنی سا معجزہ بھی نہیں سمجھتے حالانکہ وہ تمام معجزات سے برتر و اعلیٰ ہے۔ بہشت اور دوزخ کی ایسی ضعیف طور پر تاویل کرتے ہیں کہ جس سے منکر ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔ حشر اجساد سے بکلی انکاری ہیں۔ عبادات اور صوم وصلوٰۃ پر جنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں اور روبحق ہونے کی جگہ رو بدنیا ہونا ان کے نزدیک بہتر ہے اور جو شخص رو بحق ہو وہ اُن کے نزدیک سادہ لوح اور ابلہ اور ایک بیوقوف درویش ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہو گیا جس کا قدم دن بدن اتحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے ۔ ۵۶۰