ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 400
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۰ ازالہ اوہام حصہ دوم اب سمجھنا چاہیے کہ گواجمالی طور پر قرآن شریف اکمل وا تم کتاب ہے مگر ایک حصہ کثیرہ دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہی ہم نے لیا ہے اور اگر احادیث کو ہم بکلی ساقط الاعتبار سمجھ لیں تو پھر اس قدر بھی ثبوت دینا ہمیں مشکل ہوگا کہ در حقیقت حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما و عثمان ذوالنورین اور جناب علی مرتضی کرم اللہ وجہ ۵۵۷ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور امیر المؤمنین تھے اور وجود رکھتے تھے صرف فرضی نام نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان میں سے کسی کا نام نہیں ۔ ہاں اگر کوئی حدیث قرآن شریف کی کسی آیت سے صریح مخالف و مغائر پڑے مثلاً قرآن شریف کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا اور حدیث یہ کہے کہ فوت نہیں ہوا تو ایسی حدیث مردود اور نا قابل اعتبار ہوگی لیکن جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشر طیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔ پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیشگوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں بعد موضوعات داخل کر دیں۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی ۔ تو اتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں در حقیقت اُن لوگوں کا کام ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ اُن لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جو بات اُن کی اپنی سمجھ سے ۵۵۸ بالاتر ہواس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے مگر ہر ایک قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں۔