ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 399
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۹ ازالہ اوہام حصہ دوم شامل حال ہوئی ۔ ایسا ہی نصرت الہی ایک دوسرے رنگ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل ہو گئی اور درحقیقت وہی نصرت ہے جو اپنے اپنے محل پر رنگا رنگ کے معجزات کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ سو میں خوب جانتا ہوں کہ جیسا کہ نصرت الہی حضرت مسیح کے شامل (۵۵۵) حال ہوئی تھی میں بھی اس نصرت سے بے نصیب نہیں رہوں گا لیکن یہ ضرور نہیں کہ وہ نصرت جسمانی بیماروں کے اچھا کرنے کے ذریعہ سے ظاہر ہو بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک الہام میں میرے پر ظاہر فرمایا ہے کہ خلق اللہ کی روحانی بیماریوں اور شکوک اور شبہات کو وہ نصرت دور کرے گی جیسا کہ میں پہلے اس سے لکھ چکا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ مستعد دلوں پر اثر پڑتا جاتا ہے اور پرانی بیماریاں دور ہوتی جاتی ہیں اور نصرت الہی اندر ہی اندر کام کر رہی ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے خاص کلام سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ روحانی بیماریوں کو بہت صاف کر رہا ہے اس سے زیادہ کہ بھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔ حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں ہی غلط ہیں۔ شاید اُن کا ایسی باتوں سے مطلب یہ ہے کہ تا اس (۴۵۵۶ عاجز کے اس دعوے کی تحقیر کر کے کسی طرح اس کو باطل ٹھہرایا جاوے لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تو اتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کے رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے جیسا کہ ہندوؤں کے بزرگوں رام چندر اور کرشن وغیرہ کا وجود تواتر کے ذریعہ سے ہی ہم نے قبول کیا ہے ۔ گو تحقیق و تفتیش تاریخی واقعات میں ہندو لوگ بہت کچے ہیں مگر باوجود اس قدر تواتر کے جو اُن کی مسلسل تحریروں سے پایا جاتا ہے ہرگز یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ راجہ رام چندر اور راجہ کرشن یہ سب فرضی ہی نام ہیں۔