ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 398

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۸ ازالہ اوہام حصہ دوم (۵۵۳) شامل حال ہر گز نہ ہوتے۔ بعض کہتے ہیں کہ اگر ہم قبول بھی کر لیں کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو گیا ہے تو اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ تم ہی ہو جو اس کے قائم مقام بھیجے گئے ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر یک انسان اپنے کاموں سے شناخت کیا جاتا ہے۔ ہر چند عوام کی نظر میں یہ دقیق اور غامض بات ہے لیکن زیرک لوگ اس کو خوب جانتے ہیں کہ ایسے مامور من اللہ کی صداقت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت ممکن نہیں کہ جس خدمت کے لئے اس کا دعوی ہے کہ اس کے بجالانے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اگر وہ اس خدمت کو ایسی طرز پسندیدہ اور طریق برگزیدہ سے ادا کر دیوے جو دوسرے اس کے شریک نہ ہوسکیں تو یقینا سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دعوئی میں سچا تھا کیونکہ ہر یک چیز اپنی علت غائی سے شناخت کی جاتی ہے۔ اور یہ خیال بالکل فضول ہے کہ جو مثیل مسیح کہلاتا ہے وہ مسیح کی طرح مُردوں کو زندہ کر کے دکھلاوے یا بیماروں کو اچھا کر کے دکھلاوے کیونکہ مماثلت علت غائی میں ہوتی ہے۔ درمیانی افعال کی (۵۵۴) مماثلت معتبر نہیں ہوتی۔ بائبل کی کتابوں کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ جو خوارق مسیح کی طرف منسوب کئے گئے ہیں یعنی مردوں کا زندہ کرنایا بیماروں کو اچھا کرنا یہ میچ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ بعض بنی اسرائیلی ایسے بھی گزرے ہیں کہ ان سب کاموں میں نہ صرف مسیح ابن مریم کے برابر بلکہ اس سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے لیکن پھر بھی ان کو مثیل مسیح نہیں کہا جاتا نہ مسیح کو اُن کا مثیل ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ قرار دئے گئے ہیں۔ قرآن کریم اس پر ناطق ہے لیکن کبھی کسی نے نہیں سنا ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوٹے سے حضرت موسیٰ کی طرح سانپ بنایا ہو یا آسمان سے خون اور جوئیں اور مینڈ کیں برسائی ہوں بلکہ اس جگہ بھی علت غائی میں مشابہت مراد ہے چونکہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی رہائی دلانے کے لئے مامور کئے گئے تھے سو یہی خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوئی تا اس وقت کے فرعونوں سے زبر دست ہاتھ کے ساتھ مومنوں کو رہائی دلاویں اور جیسا کہ نصرت الہی ایک خاص رنگ میں حضرت موسیٰ کے