ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 397

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۷ ازالہ اوہام حصہ دوم رفع کے اس جگہ معنے موت ہی ہیں۔ پھر جبکہ مسیح کے رفع کے ساتھ تو فی کا لفظ بھی موجود ہے تو کیوں اور کس دلیل سے اس کی حیات کے لئے ایک شور قیامت برپا کر دیا ہے۔ افسوس کہ اس وقت کے مولوی جب دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم مسیح ابن مریم کو مار چکا ہے اور کوئی حدیث صحیح اس کے منافی و مغائر نہیں تو لا چار ہو کر ا جماع کی طرف دوڑتے ہیں ۔ ہر چند اِن لوگوں کو بار بار کہا جاتا ہے کہ حضرات اجماع کا لفظ پیشگوئیوں کے متعلق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قبل از ظہور ایک نبی کی اجتہادی تاویل میں بھی غلطی ممکن ہے لیکن یہ لوگ نہیں مانتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اجماع کی بناء یقین اور انکشاف کلی پر ہوا کرتی ہے لیکن سلف وخلف کے ہاتھ میں جن کی طرف اجماع کا دعویٰ منسوب کیا جاتا ہے نہ یقین کی تھا نہ انکشاف تام ۔ اگر ان کے خیالات کی بنا ء ایک کامل یقین پر ہوتی تو اُن سے اقوال متفرقہ صادر نہ ہوتے ۔ اور تفسیر کی کتابوں میں زیر تفسیر آیت یعیسی انی متوفیک چھ چھ سات سات اقوال (۵۵۲ متضادہ نہ لکھے جاتے بلکہ ایک ہی شق مسلم کو مانتے چلے آتے اور اگر انکشاف تام اُن کے نصیب ہوتا تو وہ بحوالہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ ضرور لکھتے کہ آنے والا مسیح ابن مریم در اصل وہی مسیح ابن مریم رسول اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جو اسرائیلی نبی تھا بلکہ انہوں نے اس مقام کی تصریح میں دم بھی نہیں مارا اور اصل حقیقت کو حوالہ بخدا کر کے گذر گئے جیسا کہ صلحاء کی سیرت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ زمانہ آگیا جو خدا تعالیٰ نے وہ اصل حقیقت اپنے ایک بندہ پر کھول دی اور جو راز مخفی چلا آتا تھا اس پر ظاہر کر دیا تا اس کے حق میں یہ خارق عادت تفہیم جس کے دریافت سے تمام علماء کی عقلیں قاصر رہیں ایک کرامت میں شمار کی جائے۔ و ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء۔ سواے بھائیو! برائے خدا جلدی مت کرو اور اپنے علم اور فراست پر داغ مت لگاؤ یقینا سمجھو کہ گریز کی تمام راہیں بند ہیں اور انکار کے تمام طرق مسدود ہیں ۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا یا اگر کسی افترا پر اس کی بنیاد ہوتی تو یہ دلائل بینہ اس کے