ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 382
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸۲ ازالہ اوہام حصہ دوم قرار نہیں پکڑتے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سن کر پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے اس کی ہر یک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کر لیتے ہیں اور آخر وہی ہے جو موجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہو جاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر یک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔ راستبازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ (۵۲۵ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالت جدیدہ زمانہ نے اسلام کو کسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کارگر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے ۔ ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث پودہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ ۔ حال کے زمانہ میں بھی جب اول عیسائی واعظوں نے سر اٹھایا اور ید فہم اور نادان لوگوں کو توحید سے بھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سو فسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے اُن کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں بر پا کر دیا آخر قرآن کریم ہی تھا جس نے انہیں پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے اور اُن کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لیٹے ۔ قرآن کریم نے اُن کے ایک بڑے بھارے عقیدہ کو جو کفارہ کا عقیدہ تھا مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کا ثبوت دے کر معدوم کر دیا۔ اور انسان کی نجات کے لئے وہ طبعی اور (۵۲۶) فطرتی طریقہ بتلایا جو آدم کی پیدائش سے ہر یک آدمی کی جبلت کو لازم ہے۔ اب وہ لوگ اس بات سے تو رہے کہ اپنا پر ظلم اور بے اثر کفارہ عقلمند انسانوں کے سامنے پیش کر سکیں ہاں یہ ممکن ہے کہ اب جنات کی طرف جن کا وجود انجیل کی رو سے ثابت ہے اس کفارہ کے لئے کوئی مشن بھیجیں کیونکہ ان کو تو بھی تو خدائے تعالیٰ نے ہلاکت کے لئے پیدا نہیں کیا۔ مگر مشکل تو یہ ہے کہ یه دروغ بے فروغ اسی حد تک بنا گیا تھا کہ مسیح ابن مریم بنی آدم کے کفارہ کے لئے آیا ہے۔