ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 351

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۱ ازالہ اوہام حصہ دوم حسب اپنے مرتبہ کے رہائش اختیار کرتا ہے سو کیوں مسیح کے اٹھائے جانے کا ایک نرالا مسئلہ بناویں۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ وہ ایک نورانی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا جیسا کہ اور نبی اُٹھائے گئے ۔ اس کو نورانی جسم دیا گیا تبھی تو وہ کھانے اور پینے اور پاخانہ اور پیشاب کرنے کا محتاج نہ ہوا۔ اگر یہ کثیف اور خاکی جسم ہوتا تو آسمان پر اس کے لئے ایک باورچی خانہ اور ایک پاخانہ بھی چاہیے تھا کیونکہ اس خا کی جسد کے لئے خدائے تعالیٰ نے یہ تمام ضروری امور ٹھہرائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات بینات سے ظاہر ہے۔ اے حضرات مولوی صاحبان جبکہ عام طور پر قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ۴۶۹ ) ہے اور ابتدا سے آج تک بعض اقوال صحابہ اور مفسرین بھی اس کو مارتے ہی چلے آئے ہیں تو اب آپ لوگ ناحق کی ضد کیوں کرتے ہیں کہیں عیسائیوں کے خدا کو مرنے بھی تو دو ۔ کب تک اس کو حی لا یموت کہتے جاؤ گے۔ کچھ انتہاء بھی ہے۔ پھر اگر آپ محض ضد کی راہ سے یہ کہیں کہ مسیح ابن مریم فوت تو ضرور ہو گیا تھا مگر اُسی خا کی جسم میں اُس کی روح آگئی تو کیا اس کا کوئی ثبوت بھی ہے ۔ ماسوا اس کے اس صورت میں دو موتیں اس کے لئے تجویز کرو گے ۔ یہ کہاں لکھا ہے اور کس کی ہدایت ہے کہ خدائے تعالی موتت اولی پر کفایت نہ کرے اور سارے جہان کے لئے ایک موت اور مسیح نا کردہ گناہ پر دوموتوں کی تکلیف نازل ہو۔ کیا کوئی حدیث ہے یا قرآن شریف کی آیت ہے جو ان دو موتوں کے بارے میں آپ کے پاس ہے۔ یوں تو آپ حضرت مسیح کی لاش کو بڑی عزت کے ساتھ دفن کرنا چاہتے ہیں جبکہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن کئے جائیں گے لیکن یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ دوسری موت اُن کے لئے کس سخت گناہ کا پاداش ہوگی ۔ اور واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ ۴۷۰) علیہ وسلم کی قبر میں اُن کا آخری زمانہ میں دفن ہونا یہ اس بات کی فرع ہے کہ پہلے اُن کا اسی جسم خاکی کے ساتھ زندہ اُٹھایا جانا ثابت ہو۔ ورنہ فرض کے طور پر اگر اس حدیث کو جو