ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 350

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۰ ازالہ اوہام حصہ دوم مجرد کر کے کسی ایک معنی سے مخصوص کر لیتے ہیں۔ مثلاً طبابت کے فن کو دیکھئے کہ بعض الفاظ جو کئی معنے رکھتے تھے صرف ایک معنے میں اصطلاحی طور پر محصور ومحد ودر کھے گئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کوئی علم بغیر اصطلاحی الفاظ کے چل ہی نہیں سکتا۔ پس جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن شریف کے معنے اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اگر توفی کے معنے الفاظ مروجہ قرآن میں عام طور پر قبض روح ہی ہے تو پھر مفسروں نے اس کے برخلاف اقوال کیوں لکھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ موت کے معنے بھی تو وہ برابر لکھتے چلے آئے ہیں۔ اگر ایک قوم کا ان معنوں پر اجماع نہ ہوتا تو کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک جو تیرہ سو برس گزر گئے یہ معنے تفسیروں میں درج ہوتے چلے آئے ۔ سو ان معنوں کا مسلسل طور پر درج ہوتے چلے آنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ صحابہ کے وقت سے آج تک ان معنوں پر اجماع چلا آیا ہے۔ رہی یہ بات کہ پھر دوسرے معنے انہیں تفسیروں میں کیوں لکھے گئے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بعض لوگوں کی غلط رائے ہے اور اس رائے کی غلطی ثابت کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ رائے سراسر قرآن شریف کے منشاء کے برخلاف ہے اور نیز یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُن میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں جو حضرت عیسی تین گھنٹہ یا سات گھنٹہ یا تین ۴۶۸ دن تک مُردہ رہے اور پھر آسمان کی طرف زندہ کر کے اُٹھائے گئے ۔ اور اس رائے پر ادنی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے ابتدا میں یہ رائے قائم کی ہے اُن کا یہ منشاء ہو گا کہ جیسا کہ بعض حدیثوں میں آیا ہے اور مولوی عبدالحق صاحب دہلوی نے بھی اس بارے میں اپنی کتابوں میں بہت کچھ لکھا ہے اور متصوفین بھی اس کے قائل ہیں کہ جب کوئی مقدس اور راستباز بندہ فوت ہو جائے تو پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے ۔ اور قدرت حق سے ایک قسم کا اس کو جسم نورانی عطا ہوتا ہے اور وہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر