ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 342
۳۴۲ ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ ہو چکی ہیں کیونکر ایک جگہ اکٹھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن برخلاف اس مضمون کے جو متی کے پچھپیں ۲۵ ۴۵۴ باب آیات مذکورہ بالا سے ظاہر ہوتا ہے متی کے چوبیسویں باب سے اسی دنیا میں مسیح کا آنا بھی سمجھا جاتا ہے اور دونوں قسم کے بیانات میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ آخرت میں جو حشر اجساد کے بعد آئے گا وہ خود مسیح ہے لیکن دنیا میں مسیح کے نام پر آنیوالا مثیل مسیح ہے جو اس کا چھوٹا بھائی اور اُسی کے قول کے مطابق اس کے وجود میں داخل ہے۔ دنیا میں آنے کی نسبت مسیح نے صاف کہہ دیا کہ پھر مجھے نہیں دیکھو گے پس وہ کیوں کر دنیا میں آسکتا ہے حالانکہ وہ خود کہہ گیا کہ پھر مجھے نہیں دیکھو گے۔ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ دنیا کے قبول کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اُسی وقت قبول کر لیوے۔ دنیا ہمیشہ آہستہ آہستہ مانتی ہے۔ اُن لوگوں کا ہونا بھی تو ضروری ہے کہ جو ایمان نہیں لائیں گے مگر مسیح کے دم کی ہوا سے مریں گے۔ دم کی ہوا سے مرنا حجت قاطعہ سے مرنا ہے۔ انجیلوں میں بھی تو لکھا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت بعض پکڑے جائیں گے اور بعض چھوڑے جائیں گے یعنی بعض پر عذاب نازل کرنے کے لئے حجت قائم ہو جائے گی ۔ گویادہ پکڑے گئے اور بعض نجات پانے کے لئے استحقاق حاصل کر لیں گے گویا نجات پاگئے ۔ (۱۷) سوال۔ اس وقت مثیل مسیح کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ۲۵۵ اما الجواب۔ اس وقت مثیل مسیح کی سخت ضرورت تھی اور نیز اُن ملائک کی جو زندہ کرنے کے لئے اترا کرتے ہیں سخت حاجت تھی کیونکہ روحانی موت اور غفلت ایک عالم پر طاری ہو گئی ہے اور اللہ جل شانہ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی اور سخت دلی اور دنیا پرستی پھیل گئی اور وہ تمام وجوہ پیدا ہو گئے جن کی وجہ سے توریت کی تائید میں مسیح ابن مریم دنیا میں آیا تھا۔ اور دجال نے بھی بڑے زور کے ساتھ خروج کیا اور حضرت آدم کی پیدائش کے حساب سے الف ششم کا آخری حصہ آ گیا جو بموجب آیت اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ