ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 341

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۱ ازالہ اوہام حصہ دوم سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے میرے ان سب چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ نہ کیا تو میرے ساتھ بھی نہ کیا ۔ اور وہ ہمیشہ کے عذاب میں جائیں گے پر راستباز ہمیشہ کی زندگی میں ۔ اب غور کرنا چاہیے کہ ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ مسیح نے اپنے بعض مثیلوں کا ذکر کر کے اُن کا دنیا میں آنا اور تکلیف اٹھانا گویا اپنا آنا اور تکلیف اُٹھانا قرار دیا ہے اور چھوٹے بھائیوں سے مراد بجز اُن کے اور کون لوگ ہو سکتے ہیں جو کسی قدرمسیح کے منصب اور مسیح کی طبیعت اور مسیح کے درجہ سے حصہ لیں اور اس کے نام پر مامور ہوکر آویں ۔ عیسائی تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم مسیح کے بھائی ہیں ۔ اور کچھ شک نہیں کہ محدث نبی کا چھوٹا بھائی ہوتا ہے اور تمام انبیاء علاتی بھائی کہلاتے ہیں ۔ اور یہ نہایت لطیف (۲۵۳) اشارہ ہے جو مسیح نے اُن کا آنا اپنا آنا قرار دیا ہے ۔ اور یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ یہ آنا اس عاجز کا نسبتی طور پر جلالی آنا بھی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے توحید کی اشاعت کے لئے یہ بڑی بڑی کامیابیوں کی تمہید ہے ۔ اور جلالی آنے سے مراد اگر طریق سیاست رکھا جاوے تو یہ درست نہیں۔ یہ بات انصاف سے بعید ہے کہ کوئی شخص غافلوں کے جگانے کے لئے مامور ہو کر آوے اور آتے ہی زدو کوب اور قتل اور سفك دماء سے کام لیوے جب تک پورے طور سے اتمام حجت نہ ہو خدائے تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا ۔ غرض مسیح کا جلالی طور پر آنا جن معنوں سے عیسائی بیان کرتے ہیں وہ اس دنیا سے متعلق نہیں ۔ اس دنیا میں جو مسیح کے آنے کا وعدہ ہے اس وعدہ کو ایسے جلالی طور سے کچھ علاقہ نہیں ۔ عیسائیوں نے بات کو کہیں کا کہیں ملا دیا ہے اور حق الا مر کو اپنے پر مشتبہ کر دیا ہے۔ چنانچہ متی کی آیات مذکورہ بالا تو صاف بیان کر رہی ہیں کہ یہ جلالی طور کا آنا اُس وقت ہوگا کہ جب حشر اجساد کے بعد ہر ایک کا حساب ہوگا کیونکہ بجز حشر اجساد کے کامل طور پر شریروں اور راستبازوں کی جماعتیں جو فوت