ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 337
روحانی خزائن جلد۳ ۳۳۷ ازالہ اوہام حصہ دوم بغیر خیال کسی ثواب کے انتہائی درجہ کا جوش اُن میں خلق اللہ کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے اور خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اس قدر جوش کس غرض سے ہے کیونکہ یہ امر فطرتی ہوتا ہے۔ (۱۴) خدائے تعالیٰ کے ساتھ ان لوگوں کو نہایت کامل وفاداری کا تعلق ہوتا ہے اور ایک عجیب مستی جانفشانی کی اُن کے اندر ہوتی ہے اور اُن کی روح کو خدائے تعالی کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکا ۔ اس لئے حضرت احدیت میں اُن کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جس کو خلقت نہیں پہچانتی وہ چیز جو خاص طور پر اُن میں زیادہ ہے اور جو سر چشمہ تمام برکات کا ہے اور جس کی وجہ سے یہ ڈوبتے ہوئے پھر نکل آتے ہیں اور موت تک پہنچ کر پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ذلتیں اُٹھا کر پھر تاج عزت دکھا دیتے ہیں اور مہجور اور اکیلے ہو کر پھر نا گہاں ایک جماعت کے ساتھ نظر آتے ہیں وہ یہی راز وفا داری ہے جس کے رشتہ محکم کو نہ تلوار میں قطع کر سکتی ہیں اور نہ دنیا کا کوئی بلوہ اور خوف اور مفسدہ اس کو ڈھیلا کر سکتا ہے۔ السّلام عليهم من الله و ملائكته و من الصلحاء اجمعين (۱۵) پندر ہو یں علامت ان کی علم قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کے معارف اور حقائق (۴۴۷ ولطائف جس قدر ان لوگوں کو دئے جاتے ہیں دوسرے لوگوں کو ہر گز نہیں دئے جاتے ۔ یہ لوگ وہی مطهرون ہیں جن کے حق میں اللہ جل شانه فرماتا ہے لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (۱۶) ان کی تقریر وتحریر میں اللہ جل شانہ ایک تا ثیر رکھ دیتا ہے جو علماء ظاہری کی تحریروں و تقریروں سے نرالی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہیبت اور عظمت پائی جاتی ہے اور بشر طیکہ حجاب نہ ہو دلوں کو پکڑ لیتی ہے۔ (۱۷) اُن میں ایک ہیبت بھی ہوتی ہے جو خدائے تعالیٰ کی ہیبت سے رنگین ہوتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ایک خاص طور پر اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور اُن کے چہروں پر الواقعة : ٨٠