ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 338
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۸ ازالہ اوہام حصہ دوم عشق الہی کا ایک نور ہوتا ہے جو شخص اس کو دیکھ لے اُس پر نار جہنم حرام کی جاتی ہے۔ اُن سے ذنب اور خطا بھی صادر ہو سکتا ہے مگر اُن کے دلوں میں ایک آگ ہوتی ہے جو ذنب اور خطا کو بھسم کر دیتی ہے اور ان کا خطا ٹھہر نے والی چیز نہیں بلکہ اس چیز کی مانند ہے جو ایک تیز چلنے والے پانی میں بہتی ہوئی چلی جاتی ہے ۔ سو ان کا نکتہ چین ہمیشہ ٹھوکر کھاتا ہے۔ (۱۸) خدائے تعالیٰ اُن کو ضائع نہیں کرتا اور ذلت اور خواری کی مار اُن پر نہیں مارتا کیونکہ وہ اس کے عزیز اور اس کے ہاتھ کے پودے ہیں ۔ ان کو اس لئے بلندی سے نہیں گرا تا کہ تا ہلاک کرے بلکہ اس لئے گراتا ہے کہ تا اُن کا خارق عادت طور پر ۴۲۸ بچ جانا دکھاوے ۔ ان کو اس لئے آگ میں دھکا نہیں دیتا تا اُن کو جلا کر خاکستر کر دیوے بلکہ اس لئے دھکا دیتا ہے تا لوگ دیکھ لیویں کہ پہلے تو آگ تھی مگر اب کیسا خوشنما گلزار ہے۔ (۱۹) ان کو موت نہیں دیتا جب تک وہ کام پورا نہ ہو جائے جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں اور جب تک پاک دلوں میں اُن کی قبولیت نہ پھیل جائے تب تک البتہ سفر آخرت ان کو پیش نہیں آتا ۔ (۲۰) اُن کے آثار خیر باقی رکھے جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کئی پشتوں تک اُن کی اولا داور ان کے جانی دوستوں کی اولاد پر خاص طور پر نظر رحمت رکھتا ہے اور ان کا نام دنیا سے نہیں مٹاتا ۔ یہ آثار اولیاء الرحمن ہیں اور ہر ایک قسم ان میں سے اپنے وقت پر جب ظاہر ہوتی ہے تو بھاری کرامت کی طرح جلوہ دکھاتی ہے مگر اس کا ظاہر کرنا خدائے تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہوتا ہے۔ اب یہ عاجز بحكم وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِث اس بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں الضحى :١٢