ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 336
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۶ ازالہ اوہام حصہ دوم (۴) جب اُن کو کوئی بہت ستاتا ہے اور باز نہیں آتا تو اُن کے لئے غضب اس ذات قوی کا جو اُن کا متوتی ہے یکدفعہ بھڑکتا ہے۔ (۵) جب اُن سے کوئی بہت دوستی کرتا ہے اور کچی وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس پر ایک خاص رحمت نازل کرتا ہے۔ (1) اُن کی دعائیں بہ نسبت اور وں کے بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ شمار نہیں کر سکتے کہ کس قد رقبول ہوئیں۔ (۷) اُن پر اکثر اسرار غیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ باتیں جو ابھی ظہور میں نہیں آئیں اُن پر کھولی جاتی ہیں اگر چہ اور مومنوں کو بھی سچی خوا ہیں اور سچے مکاشفات معلوم ہو جاتے ہیں مگر یہ لوگ تمام دنیا سے نمبر اول پر ہوتے ہیں۔ (۸) خدائے تعالی خاص طور پر اُن کا متوتی ہو جاتا ہے اور جس طرح اپنے بچوں کی کوئی پرورش کرتا ہے اس سے بھی زیادہ نگاہ رحمت اُن پر رکھتا ہے۔ (۴۴۴۵ (۹) جب اُن پر کوئی بڑی مصیبت کا وقت آتا ہے تو اُس وقت دو طور میں سے ایک طور کا ان سے معاملہ ہوتا ہے یا خارق عادت طور پر اس مصیبت سے رہائی دی جاتی ہے اور یا ایک ایسا صبر جمیل عطا کیا جاتا ہے جس میں لذت اور سرور اور ذوق ہو۔ (۱۰) اُن کی اخلاقی حالت ایک ایسے اعلیٰ درجہ کی کی جاتی ہے جو تکبر اور نخوت اور کمینگی اور خود پسندی اور ریا کاری اور حسد اور بخل اور تنگدلی سب دور کی جاتی ہے اور انشراح صدر اور بشاشت عطا کی جاتی ہے۔ (11) اُن کی تو کل نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اور اس کے ثمرات ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ (۱۲) ان کو ان اعمال صالحہ کے بجالانے کی قوت دی جاتی ہے جو دوسرے اُن میں کمزور ہوتے ہیں۔ (۱۳) اُن میں ہمدردی خلق اللہ کا مادہ بہت بڑھایا جاتا ہے اور بغیر توقع کسی اجر اور