ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 325

روحانی خزائن جلد۳ ۳۲۵ ازالہ اوہام حصہ دوم یعنی قرآن کے ساتھ ہم نے زمین مردہ کو زندہ کیا۔ ایسا ہی حشر اجساد بھی ہوگا۔ پھر فرماتا ہے ﴿۲۵﴾ إِنَّا نَحْنُ نُحْى الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَاثَارَهُمْ لا یعنی ہم قرآن کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہے ہیں اور پھر فرماتا ہے اِعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا : یعنی اے لوگو جان لو کہ زمین مرگئی تھی اور خدا اب نئے سرے اس کو زندہ کر رہا ہے۔ غرض جابجا قرآن شریف کو نمونہ قیامت ٹھہرایا گیا ہے بلکہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت میں ہی ہوں جیسا کہ فرمایا ہے وانا الحاشر الذي يحشر الناس على قد می یعنی میں ہی قیامت ہوں میرے قدموں پر لوگ اُٹھائے جاتے ہیں یعنی میرے آنے سے لوگ زندہ ہو رہے ہیں۔ میں قبروں سے انہیں اُٹھا رہا ہوں اور میرے قدموں پر زندہ ہونے والے جمع ہوتے جاتے ہیں۔ اور در حقیقت جب ہم ایک منصفانہ نگاہ سے عرب کی آبادیوں پر نظر ڈالیں کہ اپنی روحانی حالت کی رو سے وہ کیسے قبرستان کے حکم میں ہو گئے تھے اور کس درجہ تک سچائی اور خدا ترسی کی روح اُن کے اندر سے نکل گئی تھی اور کیسے وہ طرح طرح کی خرابیوں کی وجہ سے جو اُن کے اخلاق اور اعمال اور عقائد پراثر (۲۲۲) کر گئی تھیں سڑگل گئے تھے تو بلا اختیار ہمارے اندر سے یہ شہادت نکلتی ہے کہ اُن کا زندہ کرنا جسمانی طور پر مردوں کے جی اُٹھنے سے بمراتب عجیب تر ہے جس کی عظمت نے بے شمار عقلمندوں کی نگاہوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ آیت موصوفہ بالا کے حقیقی معنے یہ ہیں جو ہم نے ذکر کئے ہیں یعنی خدائے تعالیٰ جسمانی طور پر مُردوں کے جی اُٹھنے پر روحانی طور پر مردوں کا جی اُٹھنا بطور بدیہی نشان کے پیش کرتا ہے جو در حقیقت دلوں پر نہایت مؤثر ہوا اور بے شمار کفار اس نشان کے قائل ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ اور ایک جماعت محققین کی بھی یہی معنے آیت موصوفہ بالا کے لیتی ہے۔ چنانچہ تفسیر معالم میں زیر تفسیر اس آیت کے يس :١٣ الحديد : ۱۸