ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 326

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۶ ازالہ اوہام حصہ دوم یہ معنے لکھے ہیں جیسا کہ تفسیر کی عبارت یہ ہے وقال الحسن وجماعة وانه يعنى وان القرآن لعلم للساعة يعلمكم قيامها ويخبركم باحوالها و اهوالها فلا تمترن بها يعنى فلا تشكن فيها بعد القرآن یعنی حسن اور ایک جماعت نے اس آیت کے یہی (۲۲۷) معنے کئے ہیں کہ قرآن قیامت کے لئے نشان ہے اور زبان قال اور حال سے خبر دے رہا ہے کہ قیامت اور اُس کے حالات اور اس کے ہولناک نشان واقع ہونے والے ہیں سو بعد اس کے کہ قرآن قیامت کے آنے پر اپنے اعجازی بیانات اور تاثیرات احیاء موتی سے دلیل محکم قائم کر رہا ہے تم شک مت کرو۔ (۱۳) سوال ۔ الہام جس کی بناء پر حلقہ اجماع امت سے خروج اختیار کیا گیا ہے خود بے اصل اور بے حقیقت اور بے سود چیز ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ اما الجواب۔ پس واضح ہو کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ اجماع کو پیشگوئیوں سے کچھ علاقہ نہیں۔ اجتماع اُن امور پر ہوتا ہے جن کی حقیقت بخوبی مجھی گئی اور دیکھی گئی اور دریافت کی گئی اور شارع علیہ السلام نے اُن کے تمام جزئیات سمجھا دئے دکھا دئے سکھلا دئے جیسے صوم وصلوٰۃ وزکوۃ وحج و عقائد تو حید و ثواب و عقاب مگر یہ دنیوی پیشگوئیاں تو ابھی مخفی امور ہیں جن کی شارح علیہ السلام نے اگر کچھ شرح بھی بیان کی تو ایسی کہ جو استعارہ کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ مثلا کیا ان ۲۲۸) احادیث پر اجماع ثابت ہو سکتا ہے کہ مسیح آکر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا اور دجال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور ابن مریم بیماروں کی طرح دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ دھر کے فرض طواف کعبہ بجالائے گا۔ کیا معلوم نہیں کہ جو لوگ ان حدیثوں کی شرح کرنے والے گذرے ہیں وہ کیسے بے ٹھکا نہ اپنی اپنی تکیں ہانک رہے ہیں۔ اگر کوئی بات اجماع کے طور پر تصفیہ یافتہ ہوتی تو کیوں وہ لوگ مختلف خیالات کو ظاہر کرتے کیا کفر کا خوف نہیں تھا؟ اب رہی یہ بات کہ الہام بے اصل اور بے سود اور بے حقیقت چیز ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ سو جاننا چاہیے کہ ایسی باتیں وہی شخص کرے گا جس نے کبھی