ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 231
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۱ ازالہ اوہام حصہ اول لیکن اُس زمانہ کے گذرنے کے بعد پھر ایسے معتقد ہو گئے کہ جس کا حد انتہا نہیں اور اُن کے شطحیات کی بھی تاویلیں کرنے لگے۔ ایسا ہی سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب فتوح الغیب میں اس بات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ انسان بحالت ترک نفس و اطلاق وفنا فی اللہ تمام انبیاء کا مثیل بلکہ انہیں کی صورت کا ہو جاتا ہے اور اس عاجز کے دوست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ نمبرے جلدے میں جواز و امکان مثیلیت کے بارہ میں بہت کچھ لکھا ہے اور اگر چہ اس عاجز کے اس دعویٰ کی نسبت جو مثیل موعود ہونے کے بارہ میں براہین میں درج ہے اور بتصریح ظاہر کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبویہ میں اس عاجز کی نسبت بطور پیشگوئی خبر دی گئی ہے مولوی صاحب موصوف نے کھلے کھلے طور پر کوئی اقرار نہیں کیا لیکن امکانی طور پر تسلیم کر گئے ہیں کیونکہ اُن کا اس معرض بیان میں جو بمنصب ریویو لکھنے کے اُن کے لئے ضروری تھا سکوت اختیار کرنا اور انکار اور منع سے زبان نہ کھولنا دلیل قومی اس بات کی (۲۶) ہے کہ وہ اس بات کے بھی ہرگز مخالف نہیں کہ یہ عاجز مجازی اور روحانی طور پر وہی مسیح موعود ہے جس کی قرآن اور حدیث میں خبر دی گئی ہے کیونکہ براہین میں صاف طور پر اس بات کا تذکرہ کر دیا گیا تھا کہ یہ عاجز روحانی طور پر وہی موعود مسیح ہے جس کی اللہ ورسول نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے۔ ہاں اس بات سے اُس وقت انکار نہیں ہوا اور نہ اب انکار ہے کہ شاید پیشگوئیوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی اور مسیح موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو مگر فرق اس وقت کے بیان اور براہین احمدیہ کے بیان میں صرف اس قدر ہے کہ اُس وقت بباعث اجمال الہام کے اور نہ معلوم ہونے ہر ایک پہلو کے اجمالی طور پر لکھا گیا تھا اور اب مفصل طور پر لکھا گیا بہر حال مولوی صاحب موصوف نے اس عاجز کے مثیل مسیح ہونے کے بارہ میں امکانی ثبوت پیدا کرنے کے لئے بہت زور دیا ہے چنانچہ ایک جگہ وہ بھی الدین ابن عربی صاحب کے