ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 230

روحانی خزائن جلد۳ ۲۳۰ ازالہ اوہام حصہ اول ذرا سوچ کر بتلاویں کہ اگر اس آیت کریمہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو میں نے بیان کئے ہیں تو اور کیا معنے ہیں اور اگر یہ معنے صحیح نہیں ہیں تو پھر اللہ جل شانہ کیوں فرماتا ہے (۲۸) قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ا یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا تعالیٰ بھی تم سے محبت رکھے۔ اور تمہیں اپنا محبوب بنا لیوے۔ اب سوچنا چاہیے کہ جس وقت انسان ایک محبوب کی پیروی سے خود بھی محبوب بن گیا تو کیا اس محبوب کا مثیل ہی ہو گیا یا ابھی غیر مثیل رہا۔ افسوس! ہمارے پر کینہ مخالف ذرا نہیں سوچتے کہ طالب مولیٰ کے لئے یہی تو عمدہ اور اعلیٰ خواہش ہے جو اس کو مجاہدات کی طرف رغبت دیتی ہے اور یہی تو ایک زور آور انجن ہے جو تقویٰ اور طہارت اور اخلاص اور صدق اور صفا اور استقامت کے مراتب عالیہ کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہی تو وہ پیاس لگانے والی آگ ہے جس سے ظاہر و باطن سالک کا بھڑک اُٹھتا ہے اگر اس مقصد کے حصول سے پاس تھی ہو تو پھر اس محبوب حقیقی کے بچے طالب جیتے ہی مرجائیں۔ آج تک جس قدرا كابر متصوفين گذرے ہیں اُن میں سے ایک کو بھی اس میں اختلاف نہیں کہ اس (۲۵۹) دین متین میں مثیل الانبیاء بننے کی راہ کھلی ہوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلعم روحانی اور ربانی علماء کے لئے یہ خوشخبری فرما گئے ہیں کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اور حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ کے کلمات طیبہ مندرجہ ذیل جو تذکرۃ الاولیاء میں حضرت فرید الدین عطار صاحب نے بھی لکھے ہیں اور دوسری معتبر کتابوں میں بھی پائے جاتے ہیں اسی بناء پر ہیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ہی آدم ہوں میں ہی شیث ہوں میں ہی نوح ہوں میں ہی ابراہیم ہوں میں ہی موسیٰ ہوں میں ہی عیسی ہوں میں ہی محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم و علی اخوانہ اجمعین اور اگر چہ انہیں کلمات کی وجہ سے حضرت بایزید بسطامی ستر مرتبہ کا فر ٹھہرا کر بسطام سے جو اُن کے رہنے کی جگہ تھی شہر بدر کئے گئے اور میاں عبد الرحمن خلف مولوی ۲۲۰) محمد کی طرح اُن لوگوں نے بھی بایزید بسطامی کے کا فر اور ملحد بنانے میں سخت غلو کیا آل عمران: ۳۲