ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 222
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۲ ازالہ اوہام حصہ اول کہ اس تبلیغ کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تاکید نہیں ہوئی اور نہ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم اس کو تابعین تک پہنچانے کے لئے اپنے مجموعی جوش سے متوجہ ہوئے اور یہاں تک مضمون اس حدیث کا نادر اور قلیل الشہرت رہا کہ امام بخاری جیسے رئیس المحد ثین کو یہ حدیث نہیں ملی کہ مسیح ابن مریم دمشق کے شرقی کنارہ میں منارہ کے پاس اُترے گا اور جتنے خدائے تعالیٰ سے کام دنیا میں ہورہے ہیں وہ سب دجال دکھاوے گا۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ اس حدیث کے مضمون پر اجماع کا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک اسی پر اتفاق ا کا بر اسلام رہا ہے کس قدر افترا ہے بلکہ یہ حدیث تو اُن متواتر حدیثوں سے ہی کالعدم ہو جاتی ہے جن میں بروایت ثقات صحابہ رجال کی نسبت یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ وہ در حقیقت ابن صیاد ہی تھا جو یزید پلید کے عہد سلطنت میں مدینہ منورہ میں فوت ہو گیا اور اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی گئی ۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن شریف تو بآواز بلند مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا بیان کر رہا ہے اور احادیث صحیحہ مسلم و بخاری با تفاق ظاہر کر رہی ہیں کہ دراصل ابن صیاد ہی دجال معہود تھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ صحابی رو بر و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدائے تعالیٰ کی قسم کھارہے ہیں کہ در حقیقت دجال معہود ابن صیاد ہی ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں کہ در حقیقت ابن صیاد ہی دجال معہود ہے جو انجام کار ۱۲۴۳