ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 221

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۱ ازالہ اوہام حصہ اول اب سوچنا چاہیے کہ یہ بیان کہ صحابہ کرام کا دجال معہود اور مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں ظہور فرمانے کا ایک اجماعی اعتقاد تھا کس قدر ان بزگوں پر تہمت ہے۔ پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہر یک نبی اپنی قوم کو دجال کے نکلنے سے ڈراتا آیا ہے اور میں بھی تم سب کو ڈراتا ہوں کہ دجال آخری زمانہ میں نکلے گا تو چاہیے تھا کہ اس نصیحت اور تبلیغ کو تمام صحابہ اپنے نفس پر ایک واجب التبلیغ سمجھ کرتا بعین تک پہنچاتے اور آج ہزار ہا صحابہ کی روایتوں سے یہ حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہوتی حالانکہ بجز نواس بن سمعان اور ایک دو اور آدمیوں کے کسی نے اس حدیث کی روایت نہیں کی بلکہ نواس بن سمعان اپنی تمام روایت میں منفرد ہے۔ اب سوچو کہ ایک طرف تو یہ بتلایا جاتا ہے کہ اس حدیث کے بارہ میں عام طور پر تمام صحابہ کو تا کید (۲۳۰) ہوئی تھی کہ تم نے اس مضمون کو تا بعین تک پہنچا دینا اور دوسری طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو بجز ایک دو آدمیوں کے کوئی پہنچانے والا نظر نہیں آتا ۔ اس صورت میں جس قد رضعف اس حدیث میں پایا جاتا ہے وہ محققین کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پھر تو اتر کا دعویٰ کرنا اگر پرلے درجہ کا تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اب اے لوگو! خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور صحابہ اور تابعین پر تہمت مت لگاؤ کہ اُن سب کو اس مسئلہ پر اجماع تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اتریں گے اور دجال یک چشم خدائی کے کرشمے دکھانے والے کو قتل کریں گے ۔ اُن بزرگوں کو تو اس اعتقاد کی خبر بھی نہیں تھی اگر انہیں خبر ہوتی اور جیسا کہ بعض حدیثوں میں لکھا ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت فرمائی ہوتی تو کیا ممکن تھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اس واجب التبلیغ امرکو تا بعین تک نہ پہنچاتے اور پھر تابعین تبع تابعین کو اس کی خبر نہ کرتے ۔ صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل نہ کر ناسخت معصیت میں داخل ہے پھر کیوں کر ممکن تھا کہ ایسا معصیت کا کام اکا بر صحابہ رضی اللہ عنہم سے سرزد ہوتا پس صاف ظاہر ہے (۲۴۱)