ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 220

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۰ ازالہ اوہام حصہ اول و قتل کریں اور یہی ایک خدمت تھی جو ان کے سپرد کی گئی تھی ۔ اس سوال کا جواب ہم بجز اس صورت کے اور کسی طور سے دے نہیں سکتے کہ آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواس راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھو کہ کھایا ہے یہ فرض صاحب مسلم کے سر پر تھا کہ وہ اپنی ذکر کردہ حدیث کا تعارض اپنی قلم سے رفع کرتے مگر انہوں نے جو ایسے تعارض کا ذکر تک نہیں کیا تو اس سے ۲۳۸ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمد بن المنکدر کی حدیث کو نہایت قطعی اور یقینی اور صاف اور صریح سمجھتے تھے اور نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعارات و کنایات خیال کرتے تھے اور اُس کی حقیقت حوالہ بخدا کرتے تھے۔ غرض اے بھائیو! ان حدیثوں پر نظر ڈال کر ہر یک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کبھی صدر اول کے لوگوں نے دجال معہود کے بارہ میں ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں کیا کہ وہ آخری زمانہ میں آئے گا اور مسیح ابن مریم ظہور فرما کر اُس کو قتل کرے گا بلکہ وہ تو ابن صیاد کو ہی دجال معہود سمجھتے رہے اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب انہوں نے ابن صیاد کو دجال معہود یقین کیا اور پھر یہ بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیا کہ وہ مشرف باسلام ہو گیا اور پھر یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ مدینہ منورہ میں فوت بھی ہو گیا اور مسلمانوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی پھر ایسی صورت میں اُن بزرگوں کا اس بات پر کیوں کر ایمان یا اعتقاد ہو سکتا تھا کہ مسیح ابن مریم آخری زمانہ میں دجال معہود کے قتل کرنے کے لئے آسمان سے اُتریں گے کیونکہ وہ بزرگوار لوگ تو پہلے ہی دجال معہود کا (۲۳۹) فوت ہو جانا تسلیم کر چکے تھے پھر اس اعتقاد کے ساتھ یہ دوسرا اعتقاد کیوں کر جوڑ کھا سکتا ہے کہ اُن کو مسیح ابن مریم کے آسمان سے اُترنے اور دجال معہود کے قتل کرنے کی انتظار لگی ہوئی تھی یہ تو صریح اجتماع ضدین ہے اور کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہر گز نہیں رکھ سکتا۔