ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 148

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۸ ازالہ اوہام حصہ اول ماسوائے اس کے ہمارے عقیدہ کے موافق خدائے تعالیٰ کا بہشتیوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے پھر تعجب کہ ہمارے علماء کیوں حضرت مسیح کو اس فردوس بریں سے نکالنا چاہتے ہیں آپ ہی یہ قصے سناتے ہیں کہ حضرت ادریس جب فرشتہ ملک الموت سے اجازت لے کر بہشت میں داخل ہوئے تو ملک الموت نے چاہا کہ پھر باہر ۸۹) آویں لیکن حضرت ادریس نے باہر آنے سے انکار کیا اور یہ آیت سنادی وَ مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت مسیح اس آیت سے فائدہ حاصل کرنے کے مستحق نہیں ہیں کیا یہ آیت اُن کے حق میں منسوخ کا حکم رکھتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس لئے اس تنزل کی حالت میں بھیجے جائیں گے کہ بعض لوگوں نے انہیں ناحق خدا بنایا تھا تو یہ اُن کا ظاہر نہیں ہو گا بلکہ اس اعلیٰ درجہ کے کام کی انجام دہی کے لئے اپنی قوم کی امداد کا محتاج ہو گا۔ اب اول ہم ابو داؤد کی حدیث کو اس کے اصل الفاظ میں بیان کر کے پھر جس قدر مناسب اور کافی ہو اپنی نسبت اس کا ثبوت پیش کریں گے سو واضح ہو کہ حدیث یہ ہے عن علی قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج رجل من وراء النهر يقال له الحارث حراث على مقدمته رجل يقال له منصور يُوطن او يمكن لأل محمد كما مگنت قريش لرسول الله صلعم وجب على كلّ مؤمن نصره او قال اجابته یعنی روایت ہے علی کرم اللہ وجہہ سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص پیچھے نہر کے سے نکلے گا یعنی بخارا یا سمرقند اس کا اصل وطن ہو گا اور وہ حارث کے نام سے پکارا جاوے گا یعنی با عتبارا اپنے آبا و اجداد کے پیشہ کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کی نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا پھر آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا اس وجہ سے کہ وہ حرکت ہوگا یعنی ممیز زمینداروں میں سے ہوگا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیا جاوے گا۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ اس کے لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار و سرگروہ ایک توفیق یافتہ شخص ہو گا جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکارا جاوے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہوگا ۔ اس جگہ اگر چہ اُس منصور کو سپہ سالار کے طور پر بیان کیا ہے مگر الحجر : ۴۹