اتمام الحجّة — Page 298
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۸ اتمام الحجة بتلا رہی ہے کہ امت نہیں بگڑے گی جب تک وہ فوت نہ ہو جائیں ۔ اور فوت کا لفظ یا یوں کہو کہ مرنے کی حقیقت کھلی کھلی ہے جس کو سارا جہان جانتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب ایک انسان کو فوت شدہ کہیں ۲۰ گے تو اس سے یہی مراد ہوگی کہ ملک الموت نے اس کی روح کو قبض کر کے بدن سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اب مصنفین بی انصافاً بتلاویں کہ حضرت عیسی کی وفات پر اس سے زیادہ تر کیا ثبوت ہوگا اور کیا دنیا میں اس سے زیادہ تر منطقی فیصلہ ممکن ہے جو اس آیت نے کر دیا۔ پھر اس کے مقابل پر یہودیوں ☆ کی طرح خدا تعالیٰ کی پاک کلام کو تحریف کر کے اور گندے دل کے ساتھ اپنی طرف سے اس کے معنے گھڑنا اگر فسق اور الحاد کا طریق نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ انصاف یہ تھا کہ اگر اس قطعی اور یقینی ثبوت کو ماننا نہیں تھا تو اس کو تو ڑ کر دکھلاتے ۔ مگر ہمارے مخالفوں نے ایسا نہیں کیا اور تاویلات رکیکہ کر کے اور سچائی کے راہوں کو بکلی چھوڑ کر ہم پر ثابت کر دیا کہ ان کو سچائی کی کچھ بھی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے انکار حیات عیسی کو کلمہ کفر تو ٹھہرایا مگر آنکھ کھول کر نہ دیکھا کہ قرآن اور نبی آخر الزمان دونوں متفق اللفظ واللسان حضرت عیسی کی وفات کے قائل ہیں۔ امام مالک قية و اما عدة اميال الفصل بينها وبين طرابلس فلا اعلمها تحقيقا نعم يعلم تقريبا نظرا على الطرق والمنازل وتختلف الطرق الطريق الاول من طرابلس الى بيروت فمن طرابلس الى بيروت منزلين متوسطين (وقدر المنزل عندنا من الصباح الى قريب العصر) ومن بيروت الى صيدا منزل واحد ومن صيدا الى حيفا منزل واحد ومن حيفا الى عكامنزل واحد ومن عكا الى سور منزل واحد و يقال لبلاد الشام سوريه نسبةً الى تلك البلدة فـي الـقـديـم۔ ثم من سور الى يافا منزل كبير وهي على ساحل البحر ومنها الى القدس منزل صغير والان صنع الريل منها الى القدس ويصل القاصد من يا فا الى القدس في اقل من ساعة فعدة المسافة من طرابلس الى القدس تسعة ايام مع الراحة واليها طرق من طرابلس واقربها طريق البحر بحيث لوركب الانسان من طرابلس بالمركب النارى ود حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے منصفین ہونا چاہیے۔ (ناشر)