اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 512

اتمام الحجّة — Page 299

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۹ اتمام الحجة جیسے جلیل الشان امام قائل وفات ہو گئے۔ اور امام بخاری جیسے مقبول الزمان امام حدیث نے محض وفات کے ثابت کرنے کے لئے دو متفرق مقامات کی آیتوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ ابن قیم جیسے محدث نے مدارج السالکین میں وفات کا اقرار کر دیا۔ ایسا ہی علامہ شیخ علی بن احمد نے اپنی کتاب سراج منیر میں ان کی وفات کی تصریح کی ۔ معتزلہ کے بڑے بڑے علماء وفات کے قائل گزر گئے ۔ پر ابھی تک ہمارے مخالفوں کی نظر میں حضرت عیسی کی حیات پر اجماع ہی رہا۔ یہ خوب اجماع (۲۱) ہے۔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے حال پر رحم کرے یہ تو حد سے گزر گئے ۔ جو باتیں اللہ اور رسول کے قول سے ثابت ہوتی ہیں انہیں کو کلمات کفر قرار دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔ اب ہم اس تقریر کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتے اور نہ ہم جتلانا چاہتے ہیں کہ مولوی رسل بابا صاحب کا رسالہ حیات اسیح کس قدر بے بنیاد اور واہیات باتوں سے پُر ہے۔لیکن نہایت ضروری امر جس کے لئے ہم نے یہ رسالہ لکھا ہے یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے اپنے رسالہ مذکورہ میں محض عوام کا دل خوش کرنے کے لئے یہ چند لفظ بھی منہ سے نکال دیئے يــصــل الــى يافا بيوم وليلة ومنها الى القدس ساعة فى الريل والسلام عليكم ورحمة الله و بركاته ادام الله وجود كم وحفظكم وايدكم ونصركم على اعدائكم۔ أمين۔ كتبه خادمكم محمد السعيدي الطرابلسي عفا الله عنه ترجمہ اے حضرت مولانا وامامنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں خدا تعالی سے چاہتا ہوں کہ آپ کو شفا بخشے۔ ( میری بیماری کی حالت میں یہ خط شامی صاحب کا آیا تھا) جو کچھ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور دوسرے حالات کے متعلق سوال کیا ہے سو میں آپ کی خدمت میں مفصل بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت الماعم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گر جا بنا ہوا ہے اور وہ گر جا تمام گر جاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسی کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام سیرو فلم تھا اور اس کو اور شلم بھی کہتے ہیں۔ اور حضرت عیسی کے فوت ہونے ﴿۲۱ کے کے بعد اس شہر کا نام ایلیاء رکھا گیا اور پھر فتوح اسلامیہ کے بعد اس وقت تک اس شہر کا نام