اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 512

اتمام الحجّة — Page 297

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۷ اتمام الحجة ☆ عیسی علیہ السلام کی قبر * ہے اور اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہیے۔ اور ثابت (19) کرنا چاہیے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا ہے اور اس صورت میں دوسرے انبیاء کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہیں رہے گی اور امان اٹھ جائے گا۔ اور کہنا پڑے گا کہ شاید وہ تمام قبریں جعلی ہی ہوں۔ بہر حال آیت فلما توفیتنی سے یہی معنے ثابت ہوئے کہ مار دیا ۔ بعض نادان نام کے مولوی کہتے ہیں کہ یہ تو سچ ہے کہ اس آیت فلما تو فیتنی کے مارنا ہی معنے ہیں نہ اور کچھ لیکن وہ موت نزول کے بعد وقوع میں آئے گی اور اب تک واقع نہیں ہوئی۔ لیکن افسوس کہ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اس طور سے آیت کے معنے فاسد ہو جاتے ہیں کیونکہ آیت کے معنے تو یہ ہیں کہ حضرت عیسی جناب الہی میں عرض کریں گے کہ میری امت کے لوگ میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں۔ یعنی جب تک میں زندہ تھا وہ سب صراط مستقیم پر قائم تھے۔ اور میرے مرنے کے بعد میری امت بگڑی ۔ نہ میری زندگی میں۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ ان کی امت بھی اب تک بگڑی نہیں۔ کیونکہ آیت اپنے منطوق سے صاف یا جب میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر کی نسبت حضرت سید مولوی محمد السعیدی طرابلسی الشامی سے بذریعہ خط دریافت کیا تو انہوں نے میرے خط کے جواب میں یہ خط لکھا جس کو میں ذیل میں معہ ترجمہ لکھتا ہوں۔ يا حضرة مـولانـا وامـامـنا السلام عليكم ورحمة الله وبركاته نسأل الله الشافي ان يشفيـكـم امـامـا سـالتـم عن قبر عيسى عليه السلام وحالات اخرى مما يتعلق به فابينه مفصلا في حضرتكم وهو ان عيسى عليه السلام ولد فى بيت لحم وبينه وبين بـ بلدة القدس ثلثة اقواس وقبره في بلدة القدس والى الان موجود وهنالك كنيسة وهي اكبر الكنائس من كنائس النصاری و داخلها قبر عیسی علیه السلام كما هو مشهود وفي تلك الكنيسة ايضا قبر امه مريم ولكن كل من القبرين عليحدة وكان اسم بلدة القدس في عهد بنی اسرائیل یروشلم ويقال ايضا اورشليم وسمّيت من بعد المسيح ايلياء ومن بعد الفتوح الاسلامية الى هذا الوقت اسمها القدس والاعاجم تسميها بيت المقدس 6196