استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 494

استفتاء — Page 113

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۳ استفتاء ہو سکتے تھے ہم نے پہلے سے بیانات مذکورہ بالا میں ان کو رد کر دیا ہے اور شاید آئندہ بھی کچھ کچھ لکھا جائے (0) اب ہم ان تمہیدی امور کو یہاں تک لکھ کر اول پنڈت لیکھرام کے ان خطوط اور خلاصہ عہد نامہ کو معہ جواب خود درج کرتے ہیں جو اس پیشگوئی سے پہلے بطور باہمی خط و کتابت ظہور میں آئے اور وہ یہ ہیں : خط از طرف پنڈت لیکھر ام " بخدمت فیض درجت مرزا صاحب۔ نمستے ۔ جب سے میں یہاں ( قادیان میں ) آیا ہوں بہت سی خط و کتابت با ہمی ہو چکی ہے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ۔ اب چونکہ مجھے بخیال احقاق حق کوئی عمدہ فیصلہ کرنا ضروری ہے اس واسطے متصدعہ خدمت ہوں کہ آج دن کو کوئی وقت مقرر فرما کر مدرسہ میں آپ تشریف لاویں یا کوئی اور جگہ علاوہ دولت خانہ خود تجویز کر کے مطلع فرمادیں تا کہ بندہ حاضر ہو کر معہ بھائی کشن سنگھ و حکم دیا رام و پنڈت نہال چند جی کے آسمانی نشانات والہامات و بحث کی بابت آپ سے کچھ فیصلہ کر لیوے ورنہ آپ بخوبی یا درکھیں کہ اب میری طرف سے اتمام حجت ہوگئی ۔ صداقت کے مقابلہ سے منہ چرانا عقل مندوں سے بعید ہے۔ زیادہ نیاز ۔طالب حق لیکھرام ۔ ۸۵ دسمبر ۱۸۸۵‘“۔ دوسرا محط پنڈت لیکھر ام " عنایت فرمائے ہند و جناب مرزا صاحب ۔ نمستے ۔ زبانی بھائی کشن سنگھ کے مجمل و زبانی مولوی دین محمد ومحمد عمر کے مفصل طور پر آپ کا پیغام بجواب میرے خط کے بدین مضمون پہونچا کہ آریہ دھرم و مذہب اسلام کے دو تین مسائل پر بحث کی جاوے اور قواعد مباحث حسب پسند فریقین مقرر کئے جاویں۔ پس بجواب اس کے متصدعہ خدمت ہوں کہ میرا مدعا پشاور سے چل کر قادیان میں آنے سے صرف یہی تھا اور اب تک بھی اسی امید پر یہاں مقیم ہوں کہ آپ کے معجزات و خرق عادات و کرامات و الہامات و آسمانی نشانات کی تصدیق کر کے مشاہدہ کروں اور پیشتر اس سے کہ کسی اور اصول پر بحث کی جاوے یہی معاملہ ایک خاص معزز لوگوں کی مجلس میں بخوبی طے ہو جانا چاہیے اور اگر اس کے اثبات کرنے میں آپ عاری ہو کر پہلو تہی فرماویں تو اور بحث سے بھی مجھے کسی طرح کا انکار نہیں ۔ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے معتقدوں کے سامنے ثبوت کر دینا اور بات ہے اور مجلس علماء و فضلاء میں تصدیق ہونا اور چیز ہے۔ امید کہ آپ جواب باصواب سے سرفراز فرمادیں اور عذر معذرت درمیان نہ لاویں۔ نیاز مند لیکھرام از آریہ سماج قادیان - مکر رسہ کر ر آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ اگر ذرہ بھی آثار صداقت رکھتے ہو تو دکھلائیے ورنہ خدا کے واسطے باز آئے ۔ بر رسولاں بلاغ باشد و بس لیکھرام تیسرا خط پنڈت لیکھرام - " مرزا صاحب بندگی۔ مجھے طول طویل الف لیلہ کے فسانوں سے نفرت ہے۔ اس واسطے تکرار الفاظ سے بھی خط کو لمبا کرنا نہیں چاہتا ہوں۔ خلاصہ عرض خدمت ہے