استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 494

استفتاء — Page 114

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۴ استفتاء ☆ کہ وہی شرائط (نشان الہی کے دیکھنے کے بارے میں ) جو میں نے طیار کر کے ارسال کئے تھے جن کی نقل آپ کے پاس موجود ہے معہ شرائط خود کے چار منصفوں کے پاس روانہ ہونی چاہیے جو منصفوں سے ملے ہو کر آوے ان پر ہم ہر دو کو عمل کرنا چاہیے۔ کسی حکیم کا قول ہے کہ یکے در گیر محکم گیر۔ میرا اس پر عمل ہے مگر افسوس کہ آپ کسی بات پر ٹھہرتے نظر نہیں آتے ۔ اے بھائی یہ تو ضرور ہو گا ( کہ نشان آسمانی کے صدق یا کذب ظاہر ہونے کے وقت ) اگر میرے واسطے دین محمدی کی شرط ہے تو آپ کے واسطے آریہ دھرم بھی ضروری ہے۔ بصورت ثانی عوض تین سو روپیہ ہوگا۔ اگر خداوند کریم نے صداقت کی فتح کی تو روپیہ لے لوں گا۔ ورنہ آپ کا روپیہ آپ کے حوالہ اور میری محنت بر باد اور آپ کی آمد نیات کی ترقی ہم خرما و ہم ثواب ۔ آپ کے تو بہر طرح پانچوں گھی میں ہیں گھبراتے کیوں ہو ۔۔۔ آپ کا مجیب الدعوات ہونے کا دعوی ہے۔۔۔۔ اور اگر اسی طرح زبانی جمع خرچ کرنا منظور خاطر ہے تو خوب مزہ ہے۔ خیالی پلاؤ پکائیے اور تمام دنیا میں کسی کو خاطر شریف میں نہ لائیے۔ آپ کا اختیار ہے دست خود زبان خود ۔ مجھے آج یہاں آئے پچیس یوم کا عرصہ گذر گیا۔ میں کل پرسوں تک جانے والا ہوں ۔ اگر کچھ بحث کرنی ہے تو بھی اور اگر شرائط ( یعنی نشان دکھلانے کا عہد نامہ ) منصفوں کے پاس روانہ کرنا ہے تو بھی طے فرمائیے ور نہ بعد زاں یاروں میں لاف و گزاف کا کچھ فائدہ نہ ہوگا لیکن بہت بہتر ہوگا کہ آج ہی مدرسہ کے میدان میں تشریف لاویں۔ شیطان و شفاعت وشق القمر کا ثبوت دیں۔ انتظامی منصف بھی مقرر کر لیجئے۔ میری طرف سے مرزا امام الدین صاحب منصف تصور فرما دیں۔ اگر اس پر بھی آپ کو قناعت نہیں ہے تو خدا کے واسطے باز آئے ۔ نیازمند لیکھرام ۱۳؍ دسمبر ۱۸۸۵ء۔ چوتھا خط ۔ ” جناب مرزا صاحب۔ نمستے ۔ آپ کا دورقی مراسلہ ور ود ہوا جس سے صاف طور پر واضح ہوا که قرآن شریف محض ابراهیم و موسی و عیسی و محمد و یوسف ولوط و سکندر والقمان کے قصہ جات وفضولیات ہ اس مجیب الدعوات کے لفظ سے لیکھرام کی عربی دانی نہایت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے جس بچہ نے پہلا قاعدہ صرف عربی کا بھی پڑھا ہوگا وہ جانتا ہے کہ مجیب کا لفظ خدا تعالیٰ کے لئے آتا ہے یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا ۔ یہ باب افعال سے فاعل کا صیغہ ہے پس لیکھرام کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ کو مستجاب الدعوات ہونے کا دھوئی ہے۔ اب غور کرو کہ آریہ صاحبوں کا کس قدر جھوٹ ہے کہ لکھحرام کو عربی بھی آتی تھی۔ یہ اس کے ہاتھ کے خط لکھے ہوئے ہیں جو اس جگہ درج کئے جاتے ہیں۔ کیا تو یہ ہے کہ مشخص دونوں زبانوں سے بے نصیب تھانہ سنسکرت جانتا تھا نہ عربی۔ اور جھوٹ بولنے والے کی ہم زبان بند نہیں کر سکتے ۔ منہ