استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 494

استفتاء — Page 112

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۲ استفتاء میں پیدا ہوتے ہیں جن کے دل خدا کی کچی معرفت سے بے نصیب ہیں وہ خدا کے کاموں سے حیرت زدہ ہوکر انکار کرنے کی طرف جھک جاتے ہیں اور واقعات کو اس پہلو کی طرف کھینچ لیتے ہیں جس پہلو تک ان کے موٹے اور سطحی خیال ٹھہر گئے ہیں اور اس پر وہ زور دیتے رہتے ہیں ۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر لیکھرام اتفاقی طور پر بذریعہ قتل مر گیا تو اس طور پر بھی تو اتفاقی امر کا واقعہ ہونا ممکن تھا کہ کوئی شخص اس کی نسبت ارادہ قتل کا نہ کرتا۔ یا اگر کرتا تو اپنے ارادہ میں ناکام رہتا یا اگر کسی قد رحملہ کرتا تو ممکن تھا کہ اس سے موت تک نوبت نہ پہنچتی۔ پھر کیا سبب کہ دوسرے پہلوؤں کے تمام اتفاقات ممکنہ ظہور میں نہ آئے اور یہ اتفاق جوان پہلوؤں کی نسبت اپنے ساتھ مشکلات بھی رکھتا تھا ظہور میں آگیا۔ کیا یہ خدا نے کیا یا کسی اور نے ؟ پس وہ علیم و سمیع خدا جس کے انصاف پر فریقین نے اس مقدمہ کو چھوڑا تھا اور جس کی نسبت ایک فریق نے خبر بھی دی تھی کہ اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ میں ایسا ہی کروں گا کیوں اس کی نسبت یہ گمان کیا جائے کہ اس نے منصفانہ فیصلہ نہیں دیا۔ اور کیوں ایسا سمجھا جائے کہ اس نے مفتری کی حمایت کی۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ خدا کی یہ بھی عادت ہے کہ وہ ایسے جھوٹے کی پیشگوئیاں بھی کچی کر دیتا ہے جن پیشگوئیوں کو وہ اپنے صدق کی وجہ ثبوت ٹھہراتا ہے تو گویا خدا کا عمدا یہ ارادہ ہے کہ جھوٹوں کو بچوں کے ساتھ برابر کر کے سچ کے تمام سلسلہ کو تباہ اور زیروزبر کر دے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ خدا صادق کا حامی ہوتا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے نہ افتر اؤں کو تو اس اصول کو ماننا ایک منصف کے لئے ضروری ہوگا کہ جو پیشنگوئی خدا کے نام پر کی جائے اور وہ پوری ہو جائے تو وہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر اس اصول کو نہ مانا جائے تو خدا کی ساری کتابیں بے دلیل رہ جائیں گی اور ان کی سچائی پر یقین کرنے کی راہیں بند ہو جائیں گی۔ اسی کی طرف خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ، یعنی صادق کی یہ نشانی ہے کہ اس کی بعض پیشگوئیاں پوری ہو جاتی ہیں ۔ بعض کی شرط اس لئے لگادی کہ وعید کی پیشگوئیوں میں رجوع اور توبہ کی حالت میں عذاب کا تخلف جائز ہے گو کوئی بھی شرط نہ ہو۔ پس ممکن ہے کہ بعض عذاب کی پیشگوئیاں ملتوی رکھی جائیں اور اپنی میعاد کے اندر پوری نہ ہوں جیسا کہ یونس کی قوم کے لئے ہوا۔ غرض خدا کے نام پر جو پیشگوئی پوری ہو جائے اس کی نسبت شک کرنا اور اس کو اتفاق پر محمول کر دینا گویا خدا تعالیٰ کے دینی انتظام پر ایک حملہ ہے اور نبوت کی تمام عمارت کو گرانے کا ارادہ ہے۔ ان تمہیدی امور کو یہاں تک درج کر کے اب ہم ان سلسلہ وار الہامی شہادتوں کو پیش کرتے ہیں جن کا دریافت کرنا فتوی دینے سے پہلے اہم اور ضروری ہے۔ اور ان شہادتوں پر جو سوالات جرح المؤمن : ٢٩