عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 742 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 742

فاتحہ الکتاب اس لیے نام ہے کیونکہ اس کے ذریعہ قرآن ، نماز اور دعا کا آغاز ہوتا ہے ۷۰ فاتحہ الکتاب نام ہونے کی وجوہات کا ذکر ۷۰،۷۱ مفسرین کااتفاق کہ گزشتہ نبی کی سورۃ فاتحہ کے متعلق پیشگوئی کا تعلق مسیح موعود سے ہے ۷۲،۷۳ سورۃ الحمد اور اس کی وجہ تسمیہ ۷۴ اُم القرآن اور اس کی وجہ تسمیہ ۷۴ ام الکتاب اور اس کی وجہ تسمیہ ۷۵ اس کی ہر آیت قرآن کے ساتویں حصہ کے برابر ہے ۷۷ اس کی مثل تورات ، انجیل بلکہ کسی الہامی کتاب میں نہیں ملتی ۷۷ السبع المثانی اور ا س کی وجہ تسمیہ ۷۷ اس کی سات آیتیں جہنم کے سات دروازوں سے بچنے کا ذریعہ ہیں ۷۸ اس کی سات آیات میں دنیا کی عمر کے سات ہزار سال ہونے کی طرف اشارہ ہے ۷۱،۷۸ سورۃ فاتحہ کی خوبیوں اورمحاسن کا ذکر ۷۹،۸۰ اس کی تلاوت کے وقت شیطان سے پناہ مانگنا لازمی ہے ۸۱ اس کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ اس نے اس رنگ میں خدا کی تعریف بیان کی ہے کہ کسی بشر کے لئے ممکن نہیں کر اس سے زیادہ کر سکے ۸۱ لفظ اسم کی نحوی بحث اور اس کے معانی کا ذکر ۸۹ عربوں کے کلا م سے ثابت شدہ کہ وہ اس لفظ کا استعمال خیر کے معنوں میں کرتے ہیں ۹۱ بسم اللہ میں موجود صفت رحمان کے معانی کا ذکر ۹۲ صفت رحمانیت کے فیض کے آثا ر کا انسان کی پیدائش سے پہلے ہونے کا سبب ۹۴ سورۃ فاتحہ میں اللہ نے باقی صفات کو چھوڑ کر رحمان اور رحیم کو کیوں اختیار کیا اس کا جواب ۹۷ صفت رحمان کے ذریعہ ملنے والے خدا کے انعامات اور فیوض کا ذکر ۹۴،۹۵ صفت رحیمیت کے فیضان کا ذکر ۹۶ رحمان و رحیم یہ دونوں صفات ربوبیت اور عبودیت کے درمیان بطور پیوند ہیں ۱۰۰ اہل عرفان کے نزدیک صفت رحمانیت کی حقیقت کا بیان ۱۰۳ صفت رحیمیت کی حقیقت کا بیان ۱۰۵ اعوذ باللّٰہ میں لفظ الرجیم میں وعید ۸۳ بسم اللہ میں ان دونوں صفات کو مخصوص کرنے کا سبب ۱۲۳ حمد اور مدح میں فرق ۱۲۹ رب العالمین میں لفظ العالمین کے مختلف معانی کا ذکر ۱۳۱ رب العالمین میں مختلف عالموں کا ذکر ۱۳۸،۱۳۹ ربوبیت کے فیض اعم کا ذکر ۱۴۰ مالک یوم الدین تک اللہ کی عظمت اور عزت اور ایاک نعبد میں انسان کی ذلت اور کمزوری کا ذکر ۷۵ مالک یوم الدین میں جزاء اورمکافات کے اتم فیض کا ذکر ۱۴۱،۱۴۲ مالکیت یوم الدین اور رحیمیت کے فیض میں فرق ۱۴۲ مالکیت کا فیض آخری فیض الہٰی ہے اور یہ انسانی پیدائش کے لئے علّت غائی کی مانند ہے ۱۴۲،۱۴۳ اس آیت میں عبادت کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے ۱۶۷ انعمت علیھم کی دعا کے سکھائے جانے کی وجہ ۱۷۰ح انعمت علیھم کی دعا میں محمدی خلفاء کے سلسلہ کا مثیل عیسیٰ پر ختم ہونے کا اشارہ ہے ۱۷۰ح اھدناالصراط المستقیم میں ہدایت کے معانی ۱۷۱ اس میں اللہ نے مرشدین اور ہادیوں کے تلاش کی ترغیب دی ہے ۱۷۲ سورۃ فاتحہ میں تین گروہوں کا اس لئے ذکر کیاگیا تاکہ امت میں سے اُن جیسے تین گروہ بن سکیں ۱۹۲ اس سورۃ میں تین گروہوں کا ذکر اور پہلے گروہ کی طرف خدا کا ترغیب دلانا ۱۸۴ اس سورت کے ضالین پر ختم ہونے میں مضمر اشارہ ۱۹۲ اس سورۃ کا مبدء اورمعاد کا علم عطاکرنا ۱۹۲ الضالین سے مراد نصاریٰ ہیں ۱۹۰ سورۃ فاتحہ میں دابۃ الارض کے طاعون ہونے کے متعلق پیشگوئی ۴۱۸