عصمتِ انبیاءؑ — Page 741
اہل بیت کے برابرغیر اہل بیت نہیں ہوسکتا ۴۲۶ح ایمان ایمان کی حقیقت حسنِ ظن سے مان لینا ہے ۶۴۲ ایمان اور چیز ہے اور عرفان اور چیز ۶۴۲ ب بادشاہت آج کل بادشاہوں کے حالات ۲۸۱تا۳۱۳ برکات تمام برکات اوریقین کی کنجی وہ کلام قطعی اور یقینی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر نازل ہوتا ہے ۴۷۳ تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے ۴۸۶ تمام برکات کا جوڑ سے پیدا ہونا ۶۷۸،۶۷۹ بروز بروز میں دُوئی نہیں ہوتی ۲۱۵ بروزی تصویر کے لئے ہر ایک پہلو سے اصل کمال اپنے اندر رکھنا ضروری ہے ۲۱۴ بروز ہونے کے لیے جسمانی تعلق ہونا ضرور ی نہیں ہے ۲۱۳ بروزی طورپر نبی کا آنا ۲۰۸ حضرت موسیٰ کا بروزیشو عا ۲۱۲ مسیح موعود بروزی طور پر مع تمام کمالات محمدیہ مع نبوت محمد یہ کے آنحضرت ﷺ ہیں ۳۸۱ح بیعت پیر مہر علی کے مریدوں کا ان سے بیزارہو کوآپؐ کی بیعت میں داخل ہونا ۴۳۲ح طاعون کے دنوں میں انسانوں کا جوق درجوق بیعت میں داخل ہونا ۴۹۹ پ،ت،ٹ پادری ۲۳۱ پادریوں کا مفاسد اور فریب کاریوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا ۳۳۵ انگریزی گورنمنٹ نے پادریوں کو دوسرے مذاہب والوں سے زیادہ آزادی نہیں دی بلکہ مذہبی آزادی کا قانون سب کے لئے برابر ہے ۳۱۴،۳۳۶،۳۳۷ پرمیشر آریوں کے نزدیک پرمیشر روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں ۵۳۶ مسلمانوں کے خدا کا ہندوؤں کے مصنوعی پرمیشر پر غلبہ ۵۵۳ پیشگوئی پیشگوئی کا پورا ہونا اس بات پر مہر کردیتا ہے کہ وہ تائید جو ظہور میں آئی وہ درحقیقت منجانب اللہ ہے ۵۰۴ ایک نبی کی سورۃ فاتحہ کے متعلق پیشگوئی جس میں ایک قوی فرشتے کے پاس ایک چھوٹی کتاب کی صورت میں فاتحہ ہے ۷۱،۷۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے لئے اسماء میں دیکھیں زیر لفظ غلام احمد قادیانی علیہ السلام تثلیث تثلیث انسانی فطرت میں منقوش نہیں ہوسکتی ۶۶۲ تفسیر آپ ؑ کا سورۃ قرآنی کی تفسیر عربی فصیح بلیغ لکھنے کے لئے چیلنج کرنا ۴۰۸ عربی تفسیر کی غلطیاں نکالنے پر فی غلطی پانچ روپیہ انعام دینے کا اعلان ۴۴۱ کسی مخالف کا آپ کے بالمقابل عربی تفسیر لکھنے پر قادر نہ ہوسکنا ۶۰۲ سورۃ فتح میں آنحضرت ؐ کی رسالت اور دین کے غالب کر دینے کا ذکر ۴۵۷ سورۃ العصر کے ظاہری معنے ۴۲۲ تفسیرسورۃ فاتحہ مفسرین کا اتفاق کہ سورۃ فاتحہ کے متعلق گزشتہ نبیوں کی پیشگوئیوں کا تعلق مسیح موعود سے ہے ۷۴،۷۳ یہ ام الکتاب فرقان کی چابی اورلؤ لؤ اور مرجان کا منبع ہے ۴۱ اس کے مختلف اسماء کا ذکر اور ان کی وجہ تسمیہ ۷۰