عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 708 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 708

۔وہ شرارت اور فساد سے اتنا دور ہو جاتا ہے کہ ان باتوں کی صلاحیت ہی اس میں نہیں رہتی۔مگر جس نے عمر بھر وہ روشنی نہیں دیکھی وہ اندھا اور خدا کے نور سے دور ہی رہا۔کوئی بھی اُس معبود یکتا سے اسرار حاصل نہیں کرتا سوائے اُس سعادت مند کے جسے الہام نصیب ہو جائے۔جس کے سر پر یہ آفتاب چمکا، وہی خدا کی محبت کا مزا چکھتا ہے۔تجھے خبر بھی ہے؟ کہ رحمان کا کلام کیا چیز ہے اور وہ چاند کونسا ہے جس کے پاس کلام رحمان کا سورج ہے۔اس کا وہ کلام جو اپنے اندر انوار رکھتا ہے دلوں سے شک وشبہ کو دور کر دیتا ہے۔وہ خود بھی نور ہے اور دوسروں کو بھی نور عطا کرتا ہے اور ہر شک اور گمان کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔وہ دل جو وہم میں گرفتار ہو اسی سے تسکین اور آرام پاتا ہے۔وہ ایک فولادی میخ کی طرح دل میں گڑ جاتا ہے اور خوشی کو بڑھاتا ہے۔اُس کی برکت سے فساد اور جھگڑے کی عادت دور ہوتی ہے اور وہ تریاق کی طرح نفس کے زہر کا علاج ہے۔الہام انسان کے ساتھ وہی کام کرتا ہے جو باد صبا باغ کے ساتھ کرتی ہے۔الہام آدمی کی دونوں آنکھوں کو کھول دیتا ہے اور رحمان کا جمال دکھلا دیتا ہے۔جب خدا کی وحی کا دروازہ کھلتا ہے تو آدمی پر حرص کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔اس کی ایک کشش انسان کے باطن کو درست کر دیتی ہے اور اس یکتا خدا کا چہرہ دل کے اندر اتر جاتا ہے۔اس کشش سے دل بیدار ہو جاتا ہے اور وہ غیر سے متنفر اور خدا کا طالب بن جاتا ہے۔وہ ہر لالچ اور حرص سے منہ پھیر لیتا ہے اور یار ازلی کی طرف دوڑتا ہے۔باغِ فنا کا میوہ کھاتا ہے خودی اور خواہشِ نفسانی کی طرف سے مر جاتا ہے۔خدا کی محبت کا سیلاب اسے اپنی جگہ سے بہا کر لے جاتا ہے اور وہ کسی اور جگہ اپنا ڈیرہ ڈال دیتا ہے۔وہ خدائے بیچوں کی نظر میں پاک صاف ہو جاتا ہے اگرچہ اندھوں کے نزدیک خبیث اور ملعون ہوتا ہے۔وہ یقین سے ایسا پُر ہوتا ہے جیسے عَطّار کا شیشہ اور نا اہلوں کی لعنت سے لاپروا ہو جاتا ہے۔ایک غیب کا ہاتھ اس کے دامن کے دل کو کھینچ لیتا ہے اور یار کے دونوں ہاتھ اسے کیچڑ سے نکال لیتے ہیں۔وہ پاک دل، پاک روح اور پاک خیال ہو جاتا ہے چالاکیوں اور جھوٹ سے بہت دور