عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 707 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 707

صفحہ ۴۷۶۔وہ خدا جس کی ذات پوشیدہ ہے اور اہل جہان کی آنکھوں سے بہت دور ہے۔اس کے وجود پر کس طرح یقین حاصل ہو اگر دیدار نہیں تو گفتگو تو ضروری ہے۔اسی واسطے الہام کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔بغیر کلام اور نشانات کی گواہی کے کس طرح یقین آئے کہ وہ ذات موجود ہے۔بغیر یقین کے دل بھی کب پاک ہو سکتا ہے خاک کے نیچے سے مردہ کیونکر سر اٹھا سکتا ہے۔اگر یقین نہیں تو ایمان بھی نہیں ہے۔اس طرح بغیر یقین کے زہد، صدق، استقلال اور عرفان بھی حاصل نہیں ہوتا۔بغیر یقین کے وفاداری اور استقامت مشکل ہے اور گناہوں کا ترک کرنا بھی سخت دشوار ہے۔اسی وجہ سے خلقت مردار کی طرح ہو گئی اور یار کی محبت سے دل خالی ہو گیا۔لوگ دن رات فسق وفجور میں مبتلا ہیں زندگی کا ماحصل کفر تکبر اور غرور ہو گیا ہے۔دین اور مذہب تو اس لئے ہوتا ہے کہ یقین پیدا کر کے وہ خدا کی طرف کھینچے۔یہ دین کیسا ہے جو ہر لحظہ شیطان اور شیطانی حرکتوں کی طرف کھینچتا ہے۔یہ لوگ ریا سے اپنے عیبوں کو چھپاتے ہیں اور ہر وقت ان میں لالچ اور حرص جوش مار رہے ہیں۔چونکہ خدائے واحد پر یقین ہی نہیں ہے اس لئے بے شک نفس گندہ اور پلید ہو گیا ہے۔نفس دوں جب تک وہ انوار نہ دیکھے تب تک مردار کی خواہش کب سرد ہو سکتی ہے۔خدا کی قسم یہ خدا کا کلام ہی ہے جو خدا کی طرف سے خدا شناسی کا آلہ ہے۔وہ خونخوار اژدہا جس کا نام نفس ہے خدا کے کلام کے بغیر مطیع نہیں ہوتا۔اس سانپ کا یہی منتر ہے کہ محبوب کے منہ سے ایک دو باتیں سن لی جائیں۔واہ وا!خدا کلام کیا اثر رکھتا ہے کہ اس کے پیام سے شیطان بھاگتا ہے۔چور کا تعلق اندھیری رات کے ساتھ ہے جہاں صبح ہوئی اور وہ غدار بھاگا۔خدا کے کلام جیسی اور کونسی صبح ہے جس کی وجہ سے اندھیرا بالکل دور ہو جائے۔جس شخص پر خدا نے الہام کا دروازہ کھول دیا اسے ہمیشہ خدا یاد رہتا ہے